خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 305 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 305

خطبات محمود ۳۰۵ سال ۱۹۳۰ء قہر مصیبت اور دکھ سمجھتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی ہدایات دکھ نہیں بلکہ سکھ کا موجب ہوتی ہیں۔اس کی عبادتیں، اس کے مقرر کردہ فرائض انسان کے نفع اور بھلائی کے لئے ہوتے ہیں بلکہ جن کی آنکھیں ہیں اور جو مادر زاد روحانی اندھے نہیں وہ اس کے عذابوں میں بھی سکھ ہی دیکھتے ہیں۔چنانچہ ایسے ہی لوگوں میں سے ایک یعنی مولانا روم نے اپنی مشہور مثنوی میں لکھا ہے۔ہر بلا کہیں قوم راحق دار است زیر آن گنج کرم بنهاده است یعنی خدا تعالیٰ کی طرف سے جو مصیبت بھی مؤمنوں اور مخلصوں پر آتی ہے اس کے پیچھے اس کی رحمت کے ہزاروں خزانے مخفی ہوتے ہیں۔پس جن لوگوں کی آنکھیں ہوتی ہیں وہ عذاب میں بھی خدا تعالیٰ کی رحمت دیکھتے ہیں۔تکلیف دہ بیماریاں جد ا کر دینے والی موت پریشان کن مقدمات اور حواس باختہ کر دینے والے صدمات یہ ساری کی ساری چیزیں انہیں رحمت نظر آتی ہیں۔خالص ایمان کے معنے دوستانہ تعلقات کے ہیں۔اور جب دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی دوست اپنے دوست کا بُر انہیں چاہتا تو خالص ایمان رکھتے ہوئے یہ کس طرح خیال ہوسکتا ہے کہ خدا تعالیٰ ہمارا بُرا چاہے۔خالص ایمان کے نتیجہ میں رحمت اور برکت ہی نازل ہوا کرتی ہے۔اگر مہربان اور شریف دوست جب کوئی ایسا معاملہ کرے جو بظاہر نقصان رساں ہو تو سمجھ لیا جاتا ہے کہ اس میں بھی کوئی ایسی مصلحت ہوگی جس میں ہمارا فائدہ ہوگا۔تو خدا تعالیٰ کے متعلق یہ کس طرح خیال کیا جا سکتا ہے کہ وہ حقیقت ہماری آزار رسانی کے در پے ہے۔لیکن جب اس کے احکام کو عذاب سے تعبیر کیا جائے تو ظاہر ہے کہ دو باتوں میں سے ایک ضرور ہے یا تو یہ کہ ہماری دوستی کچی نہیں اور وہ عالم الغیب اور علیم وخبیر خدا جانتا ہے کہ ہم اس سے ٹھگی کر رہے ہیں یا پھر یہ یقین کرنا پڑے گا کہ وہ رحیم و شفیق ہستی در اصل اپنے اندر یہ صفات نہیں رکھتی بلکہ وہ (نعوذ بالله) ظالم بند خو اور سخت گیر ہے کہ بلا وجہ اور بلا سبب یونہی گرفت کرتی ہے۔لیکن اگر یہ دونوں باتیں صحیح نہیں اور واقعہ میں صحیح نہیں تو پھر اس کی طرف سے جو کچھ آتا ہے وہ شیرینی ہے صرف ہمارے منہ کا ذائقہ اسے تلخ بنا دیتا ہے۔پس احکام الہی رحمت اور فضل ہوتے ہیں اس لئے ان کو وداع کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی