خطبات محمود (جلد 12) — Page 303
خطبات محمود ۳۰۳ سال ۱۹۳۰ء اس کی تائید میں اس قدر نشانات ظاہر ہو چکے ہیں کہ ممکن نہیں کوئی معقول آدمی اس کا انکار کر سکے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ اندھا دھند پیچھے پڑ جائیں اور اگر ہمارے دوست اس طرح کریں تو چند ماہ میں ہی دنیا کی کایا پلٹ سکتی ہے۔یا درکھنا چاہئے کہ ہر آدمی جو احمدیت میں داخل ہوتا ہے وہ بمنزلہ ایک اینٹ کے ہے جو اس فصیل میں لگتی ہے جو اسلام کی حفاظت کیلئے خدا تعالیٰ نے بنائی ہے اور یہ فصیل احمدیت ہے۔ہر احمد کی کو کوشش کرنی چاہئے کہ اسے زیادہ سے زیادہ اونچا کرنے کی کوشش کرے تا دشمن کو دکر اندر نہ آسکیں۔اس آیت میں بہت سے سبق ہیں جن میں سے میں نے چند ایک بیان کئے ہیں اور چونکہ اس سورۃ کے معانی مجھے بذریعہ الہام بتائے گئے ہیں اس لئے اس پر جتنا بولوں بول سکتا ہوں۔اب اس کے علاوہ ایک نیا علم مجھے دیا گیا ہے اور وہ ہستی باری تعالیٰ کے متعلق ہے۔یہ بھی بتا کر اسی طرح بھلا دیا گیا ہے جس طرح سورۃ فاتحہ کے معارف بتا کر کھلا دیئے گئے تھے تا جب ضرورت پیش آئے نئے معارف بیان کر سکوں۔مگر اس وقت میں نے بعض باتیں بیان کر دی ہیں۔ان پر غور کرو اور عمل کرو کیونکہ اگر انسان عمل نہ کرے تو دل پر زنگ لگ جاتا ہے۔میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہماری جماعت کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور پھر عمل کے نتیجے میں جو وعدے اس نے کئے ہیں وہ ان کے لئے پورے ہوں۔آمین۔الفاتحه : 2 الفضل ۲۸ فروری ۱۹۳۰ء) بخارى كتاب الوحى باب كيف كان بدء الوحى الى رسول الله صلى الله عليه وسلم