خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 279 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 279

خطبات محمود ۲۷۹ سال ۱۹۳۰ء سلوک سے تنگ آکر ماسٹر محمد الدین صاحب ہیڈ ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول نے استعفیٰ دیا ہے۔میں ان لوگوں کے نام تو ابھی نہیں بتا تا جنہوں نے یہ خبر مشہور کی اور پہلے یہ رعایت ہی رکھتا ہوں لیکن پھر بھی ایسے لوگوں نے جن کے سامنے ایسی دروغ بیانی کی وہ تو کم از کم معلوم کر لیں گے کہ فلاں شخص نے جھوٹ بولا۔بے شک ماسٹر محمد الدین صاحب نے استعفیٰ دیا ہے لیکن اس کی وجہ درد صاحب کی بدسلوکی نہیں بلکہ کسی کے سلوک کو بھی اس سے کوئی واسطہ نہیں۔میں فی الحال اس وجہ کے متعلق تو کچھ بیان نہیں کرتا اس کے متعلق میں بعض تحقیقات کر رہا ہوں اور بعض مسائل کے متعلق مجھے اپنے علماء سے مشورہ بھی کرتا ہے اور اس کے بعد اگر ضرورت ہوئی تو میں اس وجہ کو بھی بیان کر دوں گا۔میرے پاس چونکہ یہ اطلاع پہنچی اور کسی شخص کے استعفیٰ اور اس کی وجوہات کی خبر چونکہ خود اسے اور اس کے دوستوں کو ہی ہو سکتی ہے اس لئے پہلا احتمال یہ تھا کہ یہ خبر خود ماسٹر صاحب نے مشہور کی ہو۔چنانچہ میں نے انہیں ایک رقعہ لکھوایا کہ ایسی ایک خبر مشہور ہو رہی ہے جس کے متعلق مجھے یقین ہے کہ جھوٹ ہے آپ اس کے متعلق کیا کہتے ہیں اور اس میں آپ کا کیا دخل ہے۔یہ چٹھی پرائیوٹ سیکرٹری کے نام سے بھیجی گئی تھی۔اس کے جواب میں ماسٹر صاحب نے جو خط لکھا اس کے پہلے حصہ کو تو میں ظاہر نہیں کرتا کیونکہ اس سے اصل وجہ پر روشنی پڑتی ہے جو حصہ در دصاحب کے متعلق ہے وہ سنا دیتا ہوں۔ماسٹر صاحب لکھتے ہیں :۔" مجھے آپ کا رقعہ ابھی روزہ افطار کرنے کے بعد ملا ہے جس میں آپ نے مجھے حضرت صاحب کی طرف سے لکھا ہے کہ میں لکھوں کہ آیا میں نے درد صاحب کی کسی بدسلوکی کی وجہ سے ہیڈ ماسٹری سے استعفیٰ دیا ہے۔یہ امر بالکل غلط ہے۔در د صاحب میرے ساتھ نہایت ہمدردی اور عزت سے پیش آتے رہتے ہیں۔یہ مجھے معلوم نہیں کہ میرے وہ کون سے خیر خواہ ہیں کہ جو بات میرے وہم و گمان میں بھی نہ ہو وہ میری طرف منسوب کریں۔میں پھر عرض کرتا ہوں کہ اگر رقعہ لکھنے والوں نے یہ بات لکھی ہے کہ میں نے درد صاحب کی کسی بدسلوکی کی وجہ سے ایسا کیا ہے تو یہ صریح جھوٹ ہے۔اللہ گواہ ہے“۔اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ یہ خبر انہوں نے تو مشہور نہیں کی اس لئے ظاہر ہے کہ ان کے