خطبات محمود (جلد 12) — Page 280
خطبات محمود ۲۸۰ دوستوں یا دوست نما دشمنوں پر اس کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور جن لوگوں نے یہ خبر سنی ہے وہ بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ انہیں سنانے والے جھوٹے اور مفتری ہیں۔چونکہ یہ خبر عورتوں مردوں اور مدرسہ احمدیہ و ہائی سکول کے طالب علموں سب کے ذریعہ سے مجھے پہنچی ہے اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ اسے بغرض پروپیگنڈا مشہور کیا گیا ہے اور خاص کوشش و ذرائع سے کام لے کر قادیان کے ہر گوشے میں پہنچایا گیا ہے۔مجھے چونکہ سب واقعات معلوم ہیں اس لئے میں ان کی بناء پر شہادت دیتا ہوں کہ یہ جھوٹ ہے ماسٹر صاحب کی تردید کے بعد ہمیں ان کے متعلق بدظنی کا کوئی حق نہیں۔پس جس شخص نے یہ بات اُڑائی ہے محض نظام سلسلہ میں رخنہ ڈالنے کے لئے ایسا کیا ہے۔میں اس غلط خبر کو غلط فہمی کا نتیجہ نہیں کہہ سکتا۔کیونکہ اتنی لمبی بات جس میں پورا واقعہ بیان ہو کبھی غلط فہمی سے پیدا نہیں ہو سکتی اس لئے یہ جھوٹ اور افتراء ہے۔ہاں اگر در دصاحب سے انہیں کوئی اختلاف ہوتا تو پھر بھی ہم کہہ سکتے تھے کہ انہوں نے اختلاف کہا ہو گا جسے سننے والے نے بدسلو کی سمجھ لیا اور ہر جگہ آپس میں اختلاف ہوا ہی کرتے ہیں اور اختلاف کی بناء پر بعض اوقات ما تحت استعفیٰ بھی دے دیتے ہیں لیکن اس استعفیٰ میں تو اختلاف کا بھی کوئی تعلق نہیں اس لئے اس کی بنیاد یقیناً افتراء پر ہے غلط فہمی اسے ہرگز نہیں کہا جا سکتا۔پس جن لوگوں نے اس بات کو سنا وہ سمجھ لیں کہ ان کو سنانے والے جھوٹے اور مفتری ہیں۔اس طرح اگر چہ میں نام تو نہیں لیتا لیکن پھر بھی بہت لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ فلاں شخص مفتری اور جھوٹا ہے اور بغیر نام لئے ہی اس کے جھوٹ سے بہت سے لوگ آگاہ ہو سکتے ہیں۔اصل معاملہ کے متعلق ابھی بعض شرعی مسائل طے کرنے ہیں اس کے بعد اگر ضرورت ہوئی تو میں ظاہر کر دوں گا۔اس کے بعد میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم میں سے بعض ایسے ہیں جن کو جھوٹ بولنے اور افتراء کرنے کی عادت ہے اور میں نے بھی پورے طور پر تہیہ کر لیا ہے کہ چاہے وہ کتنا ہی شور مچائیں اور لوگوں کو اُبھار میں قطع نظر اس سے کہ میری جان رہے یا نہ رہے میں ان کے پول کو ضرور کھول دوں گا۔سلسلہ کا قیام بھی سچ کیلئے ہی ہے اور اگر سچائی جو اصل مقصد ہے فوت ہو جائے تو پھر کسی بھی چیز کی ضرورت نہیں رہتی اس لئے بہر حال جھوٹ اور شرارت کو کھولا جائے گا۔پہلے میں اتنا لحاظ کرتا