خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 236 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 236

خطبات محمود مجھے محفوظ رکھیں۔FFY سال ۱۹۲۹ء دیکھو قرآن شریف نے کیا ہی لطیف اور جامع رنگ اختیار کیا ہے۔جہاں تو میلان کا سوال | نہیں وہاں کہا قُلْ إِنْ كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ لیکن جہاں میلان کا تعلق تھا وہاں صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کے جامع الفاظ رکھ دیئے ہیں کیونکہ انسان کا میلان اس کی اپنی مرضی سے نہیں ہوتا لیکن عمل اپنی مرضی سے ہو سکتا ہے۔چونکہ میلان اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اس لئے اس کے متعلق اللہ تعالیٰ کی استعانت کی اشد ضرورت ہے لیکن عمل میں بہت سا دخل انسان کی اپنی مرضی کا ہوتا ہے اس لئے رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ انسان کے دل میں جو بُرا خیال پیدا ہو اور وہ اس پر عمل نہ کرے تو یہ نیکی ہو جاتی ہے چونکہ دل کے خیال پر انسان کا دخل نہیں اس لئے اس پر گرفت بھی نہیں جب تک انسان اسے عملی جامہ نہ پہنائے۔انسان عمل کر سکتا ہے نماز پڑھ سکتا ہے روزے رکھ سکتا ہے، حج کر سکتا ہے، زکوۃ دے سکتا ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس کے اندر چاروں کے لئے بشاشت بھی پیدا ہو ممکن ہے وہ کرے تو چاروں ہی لیکن بشاشت صرف ایک ہی سے پیدا ہو کیونکہ وہ اپنے آپ کو عمل کے لئے مجبور کر سکتا ہے بشاشت کے لئے نہیں اس میں اُدھر ہی چلے گا جدھر میلان ہوگا۔اس لئے جہاں میلان کا سوال تھا وہاں قرآن کریم نے جمع کا صیغہ رکھا ہے لیکن جہاں عمل کا تھا وہاں واحد کا۔یہ ایک نہایت ہی لطیف مضمون ہے۔خطبہ کی طاقت نہیں کہ اس کی تفصیلات کا متحمل ہو سکے۔اس کے لئے ایک مستقل لیکچر کی ضرورت ہے۔لیکن جو کچھ مختصر بیان ہوا ہے اس میں کم از کم ہر ایک کے لئے اتنا مسالہ ضرور موجود ہے کہ وہ ہدایت پاسکے اگر چہ اس کی جزئیات کو نہ سمجھ سکے۔سورۃ فاتحہ میں خدا تعالیٰ نے یہ ایک ایسا نکتہ رکھا ہے کہ اسے سمجھ کر انسان بہت سی ٹھوکروں سے بچ سکتا ہے۔بیسیوں بدظنیاں انسان صرف اس لئے کر لیتا ہے کہ جس وقت کوئی بات اس کے سامنے بیان کی جائے اُس وقت اس کی قلبی کیفیت اس کے قبول کرنے کے لئے تیار ہوتی ہے۔ایک شخص سے اسے عداوت ہوتی ہے اس کے متعلق اگر کوئی اُسے بُری بات کہے تو وہ فوراً اُسے مان لیتا ہے لیکن اگر اس کے دوست کے متعلق وہی بات بیان کی جائے تو فوراً کہہ دیتا ہے لوگ جھوٹ بولا ہی کرتے ہیں۔اسی طرح اگر بیان کرنے والا اس کا دوست ہو تو کہتا ہے اسے کیا ضرورت تھی کہ جھوٹ بولتا لیکن اگر کوئی دوسرا ہو تو کہہ دیتا ہے اجی کیا اعتبار ہے لوگ یونہی باتیں اُڑا دیا کرتے ہیں۔پھر بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہی