خطبات محمود (جلد 12) — Page 235
خطبات محمود ۲۳۵ ہو جاتا ہے۔دعوت کے موقع پر مجھے بہت مشکل پیش آتی ہے۔اگر کوئی چیز نہ کھاؤ تو میزبان خیال کرتا ہے کہ شاید میرے کھانے میں کوئی نقص ہے اور وہ خواہ نخواہ دُکھ اور قلبی اذیت محسوس کرتا ہے۔اس کے احساسات کا لحاظ رکھتے ہوئے چاول کھانے ہی پڑتے ہیں لیکن اس سے تکلیف ہوتی ہے۔اگر دو دعوتیں اکٹھی ہو جائیں تو ضرور اور اگر ایک ہو تو عام طور پر مجھے بخار ہو جاتا ہے۔تو میں عام طور پر چاول نہیں کھا سکتا۔اگر چہ کبھی کھا بھی لیتا ہوں لیکن وہ حالت خاص ہوتی ہے جب انسان سمجھتا ہے کہ اگر یہ چیز کھالی تو ہضم ہو جائے گی۔اسی طرح اچھی دلیل کے یہ معنے نہیں کہ ہر وقت وہی ایک دلیل سب کی سمجھ میں آجائے۔میں نے خاص طور پر اس کا مطالعہ کیا ہے۔بعض لوگ ایک وقت ایک دلیل سے متاثر ہوتے ہیں دوسرے وقت دوسری اور تیسرے وقت تیسری ہے۔جس کی وجہ یہ ہے کہ مختلف اوقات میں مختلف حالتیں انسان کی ہوتی ہیں۔میں نے اس کا گہرا مطالعہ کیا ہے۔بعض اوقات ایک مخلص آدمی یہ خیال کرتا ہے کہ جس بات نے مجھ پر اثر کیا ہے ضروری ہے کہ دوسرے پر بھی اثر کرے لیکن وہ نہیں کرتی کیونکہ اُس پر اثر کرنے کی وجہ یہ تھی کہ اس کی قلبی کیفیت اُس سے مشابہ تھی۔اسی طرح نیکیوں کا حال ہے ایک شخص محض چندہ دینے کی وجہ سے دوسرے کی نیکی کا قائل ہوتا ہے لیکن وہ جب دوسرے سے اس کا ذکر کرتا ہے تو وہ کہ دیتا ہے چھوڑو جی چندہ کا کیا ہے نماز تو وہ پڑھتا نہیں۔لیکن ایک دوسرے شخص کے سامنے اگر کہو کہ فلاں آدمی نماز میں بہت پڑھتا ہے تو وہ فوراً کہہ دے گا کہ نماز پڑھنے کا کیا ہے جب چندہ نہیں دیتا تو اسے کس طرح مخلص کہا جا سکتا ہے غرضیکہ کوئی چندہ کی خوبی سے متاثر ہوتا ہے اور کوئی نماز سے مختصر یہ کہ انسانی میلان مختلف اوقات میں مختلف ہوتے ہیں اور اسی لئے ایک وقت کوئی بات ان پر اثر کرتی ہے اور دوسرے وقت کوئی اور۔یہی وجہ ہے کہ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ فرمایا اور محمد رسول اللہ اللہ کا رستہ نہیں کہا اور اسی طرح غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ فرمایا کسی اشتد ترین دشمن کا نام نہیں۔حالانکہ آسانی سے شیطان کا نام لیا جا سکتا تھا۔مگر نہیں۔انسان در اصل شیطان کی بھی اتباع نہیں کرتا بلکہ اپنے میلان کی پیروی کرتا ہے۔اسی وجہ سے نیکی میں بڑھنے کیلئے صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ اور بُرائیوں سے بچنے کے لئے غَيْر الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ فرمایا۔جس کے معنی یہ ہیں کہ یا ای ! جس نیکی سے میرے قلب میں میلان ہو اُس کی توفیق دے اور جس مغضوبیت سے میرے اندر مشابہت ہوا۔