خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 237 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 237

خطبات محمود ۲۳۷ سال ۱۹۲۹ء بات جو اگر براہ راست کوئی آکر اس سے بیان کرتا تو وہ اسے ہرگز قبول نہ کرتا لیکن اگر راوی اس کے دوست سے بیان کرے اور دوست اس سے متاثر ہو کر اس سے بیان کرے تو اسے فوراً درست مان لیتا ہے۔جس طرح لوہا آگ سے گرم ہوتا اور ہم لوہے سے گرم ہو جاتے ہیں اسی طرح بعض اوقات بالواسطه بدظنی پیدا ہو جاتی ہے۔اگر بر اور است راوی اس کے پاس آتا تو یہ اسے ٹھکرا دیتا لیکن چونکہ دوست کا میلان اس سے ملتا تھا اور راوی کا میلان اپنے دوست سے ملتا تھا اس لئے یہ بھی پا لواسطہ بدظنی کا شکار ہو جاتا ہے۔انسان کو یہ دیکھنا چاہئے کہ اگر یہی بات میرے متعلق یا میرے دوست کے متعلق ہوتی تو میں اس کے متعلق کیا خیال کرتا۔اس پر وہ فورا سمجھ جائے گا کہ یہ کیفیت اس کے اندر محض میلان کی وجہ سے پیدا ہو گئی ہے۔اس وقت دل کی زمین مشابہ تھی۔اس لئے یہ بدی دل کے اندر پیدا ہو گئی۔یہی حال نیکی کا ہے جہاد کے وقت بعض لوگ مصلی پر بیٹھے رہتے ہیں کیونکہ ان کا میلان اس طرف ہوتا ہے حالانکہ اس وقت افضل عبادت جہاد ہی ہے۔ایک موقع جہاد پر رسول کریم ﷺ نے فرمایا آج روزہ داروں سے بے روزہ بڑھ گئے۔اس کی وجہ یہی تھی کہ روزہ رکھنے والوں نے اپنے میلان کی وجہ سے روزہ رکھنے کو ہی افضل سمجھا جس سے ان کی طاقتوں میں کمی آگئی لیکن روزہ نہ رکھنے والے تازہ دم ہونے کی وجہ سے ان سے زیادہ شجاعت سے جنگ کر سکے۔تو نیکی بدی اس معاملہ میں دونوں یکساں ہیں۔انسان کو یہ دیکھنا چاہئے کہ میرا میلان قرآن کے مطابق ہے یا نہیں۔اگر نہیں تو اسے سمجھ لینا چاہئے کہ اس کی نیکی نیکی نہیں اور جسے وہ بدی سمجھتا ہے وہ بدی نہیں۔اصل گر قرآن کریم نے یہی اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں بتایا ہے اور اسی پر ہر میلان پر کھا جا سکتا ہے۔میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں بار یک در باریک راہوں سے آنے والی ٹھوکروں سے محفوظ رکھے۔اور ایسی باتوں سے بچائے جو بسا اوقات ہماری سمجھ میں نہیں آتیں۔لیکن ٹھوکر کا موجب ہو جاتی ہیں۔آمین ( الفضل ۳۔جنوری ۱۹۳۰ء) -d الفاتحة : - المزمل : ١٦ ال عمران : ۳۲ بها المائدة : ۱۱۸ ۵ بخاری كتاب الرقاق باب من هم بحسنة او بسيئة بخاری كتاب الجهاد باب فضل الخدمة في الغزو