خطبات محمود (جلد 12) — Page 180
خطبات محمود سال ۱۹۲۹ء تھے وہی ہوں گے جو مستقل رہیں گے اور کہیں گے یہ بوٹیوں کا سوال نہیں بلکہ حقوق ملتی اور قومی وقار کا سوال ہے اور سب سے زیادہ میں جس نے گوشت نہیں کھانا تھا انشَاءَ اللهُ الْعَزِيزِ اس پر قائم رہوں گا اور اگر خدا تعالیٰ نے زندگی دی تو اس مسئلہ کو طے کرا کے چھوڑوں گا۔اس موقع کے مطابق میں ایک بات سنانا چاہتا ہوں ایک زمانہ میں امریکہ میں انگلستان کی نو آبادیاں تھیں۔انگلستان میں چونکہ اُس وقت مذہبی اختلاف تھا اور مذہب کے نام پر سخت مظالم ہوتے تھے اس لئے وہابی مزاج انگریز امریکہ چلے جاتے تھے اور اس طرح امریکہ میں ان کی بارہ نو آبادیات قائم ہو گئیں۔یہ لوگ وہاں جا کر بستے اور اس طرح مظالم سے پناہ لیتے تھے لیکن ان پر حکومت برطانیہ کی ہی تھی۔کچھ مدت بعد ان لوگوں میں خیال پیدا ہوا کیا وجہ ہے ہم ان لوگوں کی حکومت میں رہیں۔ان میں بیداری پیدا ہوئی اور انہوں نے برطانیہ سے بعض قوانین نرم یا تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا لیکن برطانیہ نے حکومت کے گھمنڈ میں کہا ہم امریکہ کا کوئی مطالبہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں حتی کہ معمولی معمولی باتوں پر انہیں تنگ کرنے کے لئے گراں قدر ٹیکس لگا دیئے۔چائے پر ایسی پابندیاں عائد کر دیں کہ اہل امریکہ نے کہا ہم چائے کا استعمال ہی ترک کر دیتے ہیں۔جب یہ حالت ہوئی تو ایک بوڑھے آدمی نے جس کا نام پٹ (PITT) تھا اور جو اس وقت برطانیہ کا وزیر اعظم تھا پارلیمنٹ میں تقریر کی اور کہا دیکھو جب بچے پیدا ہوتے ہیں تو وہ پوری طرح ہمارے اختیار میں ہوتے ہیں۔ان کا پاخانہ کرنا، کھانا پینا، پہنا سب کچھ ہماری مرضی پر ہوتا ہے۔پہلے ان کی زبان نہیں ہوتی پھر وہ ذرا بڑے ہوتے ہیں اور کچھ کچھ باتیں کرنے لگتے ہیں اور ہمیں انکی بعض باتیں ماننی پڑتی ہیں اور بعض رد کر دیتے ہیں آخر جب وہ جوان ہوتے ہیں تو ہم یہ نہیں کہتے کہ آؤ ان کو دودھ پلائیں یا ان کے پوتڑے باندھیں بلکہ انہیں آزادی دے دیتے ہیں کہ اپنے حسب منشاء کام کریں ایسی صورت میں ہی وہ ہمارے وفادار رہ سکتے ہیں لیکن اگر جوانی میں بھی ان سے بچپن والا ہی سلوک کریں تو یقینا بخش پیدا ہوگی۔امریکہ کبھی بچہ تھا لیکن اب بالغ ہو چکا ہے سیاسیات سے واقف ہو چکا ہے اب ہمیں چاہئے اس سے جوان بیٹے والا سلوک کریں۔لیکن لوگوں نے کہا پٹ بُو دل ہے۔اس کی بات ماننے کے قابل نہیں امریکہ میں قانون ہمارا ہی چلے گا اور ہم ان لوگوں کو کوئی حق نہ دیں گے اس پر مبڈھا پٹ دل شکستہ ہو کر گھر جا بیٹھا۔آخر امریکہ میں بغاوت ہوئی اور ایسی شاندار بغاوت ہوئی کہ اس کی مثال بہت ہی کم ملتی