خطبات محمود (جلد 12) — Page 179
خطبات محمود۔169۔سال ۱۹۲۹ء میں نے پہلے بھی کئی بار کہا ہے اور اب بھی کہتا ہوں کہ جوں جوں ہندوستان میں حکومت خود اختیاری کا سوال زور پکڑتا جائے گا انگریز زبر دست کی طرف جھکتے جائیں گے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں زبر دست کی حمایت کے بغیر ہم یہاں نہیں رہ سکتے۔آئر لینڈ میں دیکھ لو کیا ہوا۔جن لوگوں نے اپنی جانوں کو خطرہ میں ڈال کر حکومت کا ساتھ دیا۔حکومت نے جب دیکھا کہ ملک میں مخالفت بڑھ گئی ہے تو اس نے ان جانبازوں کا ساتھ چھوڑ دیا اور ایسے ایسے قوانین پاس کر دیئے جنہیں ان بہادروں نے اپنی حق تلفی سمجھا۔وہ لوگ ان کے ہم مذہب ہم قوم اور وفادار تھے لیکن ان تعلقات کے ہوتے ہوئے جب زبر دست کے مقابلہ میں ان کی پرواہ نہ کی گئی تو صرف وفاداروں کا جو نہ ان کے ہم مذہب ہیں نہ ہم قوم ساتھ چھوڑ دینا کونسی اچنبھے کی بات ہے۔ہندوستان سے علیحدہ ہو کر برطانیہ کچھ بھی نہیں رہتا وہ محض ایک چھوٹی سی ریاست رہ جاتا ہے۔اس کی تمام شان و شوکت اس کی نو آبادیات سے ہی ہے اور ظاہر ہے کہ چند آدمیوں کی خاطر خواہ وہ اس کے کتنے ہی حامی ہوں اپنی قومی شوکت قربان نہیں کر سکتا۔یہ نقطہ نگاہ میں نے ہمیشہ مسلمانوں کے سامنے پیش کیا اور بتایا کہ سوراج کے مطالبہ سے پہلے اس بات کو مد نظر رکھ لو اور اپنے حقوق کا انتظام کرو۔میرے نزدیک ضروری ہے کہ مسلمان آئندہ نتائج پر غور کر کے کوئی صحیح راہ تلاش کریں۔میں سوراج کا مخالف نہیں بلکہ زبردست مؤید ہوں لیکن جو سؤ راج اسلام اور مسلمانوں کا نشان ہندوستان سے مٹانے والا ہو اُسے ہم کسی صورت میں منظور نہیں کر سکتے۔بہر حال موجودہ حالات میں جب حکومت نے دیکھا کہ سکھوں نے بہت جوش کا اظہار کیا ہے تو وہ دینے لگی اور لگی آنے بہانے بنانے۔وہی ذمہ وار حاکم جسے ہندوستانیوں کے مطالبات کے جواب میں ہمیشہ پیش کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے ہمارے Man of the Spot کی یہ رائے ہے اسے ہم کس طرح غلط سمجھ سکتے ہیں۔اس کی رائے بھی غلط قرار پا گئی ہے اور کہا جانے لگا ڈپٹی کمشنر نے بڑی غلطی کی اور حکومت کے منشاء کو صحیح نہیں سمجھا۔بہر حال ان آثار نے ہماری جماعت پر واضح کر دیا ہے کہ یہ معاملہ سید ھے ہاتھوں طے نہیں ہوگا۔لیکن جو لوگ سب سے زیادہ جوش دکھاتے تھے اگر اس معاملہ نے طول کھینچا تو وہی پیچھے ہٹیں گے اور جو سمجھتے تھے اس کے بغیر زندگی نہیں بسر ہو سکتی تھوڑے ہی دنوں میں وہ کہنے لگ جائیں گے یہ فضول بات ہے اس کے لئے اتنے لمبے جھگڑے کی ضرورت ہی کیا ہے۔لیکن وہی جو اس وقت بھی اپنے جذبات کو قابو میں رکھتے