خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 181

خطبات محمود AI سال ۱۹۲۹ء ہے۔امریکہ کے کمزور اور نا تربیت یافتہ لوگوں نے وہ وہ کار ہائے نمایاں کئے کہ تاریخ میں پڑھ کر دل وجد کرتا ہے۔ان کے پاس کوئی سامان نہ تھا ان کا کوئی نظام نہ تھا لیکن عورتیں بچے بوڑھے سب کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا ہم اپنے ملک کو آزاد کرا کے چھوڑیں گے۔انگریزوں نے فوج پر فوج بھیجی، بیڑے پر بیٹڑے اُتارے لیکن انکی چھوٹی چھوٹی کشتیوں اور نا تربیت یافتہ آدمیوں نے ان کی باقاعدہ تربیت یافتہ فوجوں اور بیڑوں کے دانت کھٹے کر دیئے۔اس پر وہی لوگ جو یہ کہتے تھے کہ امریکہ کو کچھ نہیں دینا چاہئے کہنے لگے چھوڑ و اس معاملہ کو اتنا نقصان برداشت کرنے کی کیا ضرورت ہے امریکہ والے جو کہتے نہیں مان لیا جائے۔بوڑھا پٹ اُس وقت بہت ضعیف ہو چکا تھا وہ دو چار آدمیوں کے سہارے چل کر پھر پارلیمنٹ میں آیا اور اس نے کہا میں نے پہلے تمہیں ایک مشورہ دیا تھا جو تم نے نہ مانا اس کا انجام دیکھ لیا۔اب پھر میں کہتا ہوں کہ جو تلوار اٹھ چکی ہے اسے نہ رکھنا جب تک کامیابی حاصل نہ ہو جائے وگر نہ تمہارے و قار کو سخت صدمہ پہنچے گا لیکن لوگوں نے کہا یہ سٹھیا گیا ہے اور اس کی کسی نے نہ مانی اور صلح کر لی۔پیٹ تو اس صدمہ سے جان بر نہ ہو سکا لیکن آج انگلستان کے اعزاز کا مقابلہ کرنے والی اور اس کی شوکت کو چیلنج کرنے والی وہی نو آبادیات ہیں جن کو United States of America کہتے ہیں اور آج اگر کسی قوم کے مقابلہ میں انگلستان کی کنی دیتی ہے تو وہ امریکہ ہی ہے۔یہ واقعہ ہمارے لئے بہت بڑا سبق اپنے اندر رکھتا ہے میں نے بھی پہلے اپنی جماعت کے دوستوں سے کہا تھا کہ جہاں پہلے گائے کا گوشت نہ فروخت ہونے کی وجہ سے نقصان اُٹھاتے رہے ہو چند سال اور اُٹھا لو جب تک اللہ تعالیٰ اس تمام علاقہ کو مسلمان کر دے لیکن اُس وقت کا انتظار نہ کیا گیا۔اب جبکہ اس کام کو شروع کر دیا گیا ہے تو اسے اس طرح نبھاؤ کہ ایک طرف تو تبلیغ میں جو ہمارا اصل کام ہے کوئی کمی واقع نہ ہوتا ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے محروم نہ ہو جائیں اور دوسری طرف اس کام سے بھی پیچھے نہ ہٹو جب تک اس میں کامیاب نہ ہو جاؤ۔ورنہ یا درکھو ابتدائی ایام میں ہی تمہارے وقار کو وہ صدمہ پہنچے گا کہ پھر سنبھلنا مشکل ہو جائے گا اور تمہاری وہی حالت ہو جائے گی جو کسی شاعر نے بیان کی ہے سية پھول تو دو دن بہار جاں فزا دکھلا گئے حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے