خطبات محمود (جلد 12) — Page 160
خطبات محمود 14۔(۲۳ سال ۱۹۲۹ء بہائیت کی حقیقت فرموده ۱۶۔اگست ۱۹۲۹ء بمقام سرینگر کشمیر ) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: خطبہ جمعہ کی غرض ان امور کے متعلق ہدایات دینا ہوتی ہے جو ان ایام میں یا اس مقام میں جہاں خطبہ پڑھا جائے توجہ کے قابل سمجھے جائیں۔بعض باتیں بعض ایام میں زیادہ اہمیت رکھتی ہیں تو بعض دوسری باتیں دوسرے ایام میں قابل توجہ ہوتی ہیں۔اسی طرح بعض امور ایک خاص مقام میں اہمیت رکھتے ہیں تو بعض اور دوسرے مقامات میں ضروری سمجھے جاتے ہیں۔یہاں آنے پر مجھے ایک معاملہ جس کو پنجاب میں ان دنوں ہم کچھ بھی اہمیت نہیں دیتے معلوم ہوا اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں اس کی وجہ یہاں یہ ہے کہ اس امر کی حقیقت سے لوگ یہاں واقف نہیں اور وہ با بیت یا بہائیت کا فتنہ ہے۔یہاں چونکہ علم کم ہے باہر کے لوگوں سے میل جول کم ہوتا ہے یہاں کوئی ایسی لائبریری نہیں جس سے علم حاصل کرنے میں مددمل سکے اس لئے اس مذہب کی کتابوں اور اس کی باتوں سے لوگ نا واقف ہیں اس سے بھی زیادہ اس معاملہ میں اس بات کو دخل ہے کہ بابی یا بہائی اپنی اصل کتابوں کو چھپاتے ہیں اور جہاں تک ہوسکتا ہے دوسروں کو نہیں دکھاتے ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ چند آسان اور عام باتیں لوگوں کے سامنے اپنے مذہب کے اصول کے طور پر پیش کرتے ہیں حالانکہ ضرورت اس بات کی ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والے مذہب کا پہلا کام یہ ہے کہ اپنے عقائد اور اصول لوگوں کے سامنے پیش کرے اور ان کی اشاعت کرے۔قرآن کریم کا نام ہی خدا تعالیٰ نے قرآن رکھا ہے یعنی پڑھی جانے والی