خطبات محمود (جلد 12) — Page 161
خطبات محمود 141 سال ۱۹۲۹ء کتاب۔دوسری جگہ آتا ہے فِى رَقّ منشور یہ ایسی کتاب ہے جو پھیلا دی جائے گی۔پھر قرآن کا نام فاتحہ رکھا یعنی یہ کھلی کتاب ہے جو چاہے اسے دیکھے اور پڑھے۔غرض خدا تعالیٰ کی طرف سے جو تعلیم ہوا سے چھپایا نہیں جاتا۔بعض واقعات اور بعض باتیں خاص مصلحتوں کے ماتحت پوشیدہ رکھی جاسکتی ہیں مگر تعلیم نہیں چُھپائی جاتی۔یہ بالکل ممکن ہے کہ ایک شخص کے متعلق خیالات اچھے نہ ہوں مگر اس کے سامنے اس لئے نہ ظاہر کئے جائیں کہ اس کا دل دُکھے گا یہ نا جائز نہیں۔لیکن یہ کہ دنیا کو گمراہ سمجھا جائے اور اپنا مذہب سچا اور گمراہی سے بچانے والا بتایا جائے لیکن اسے پیش نہ کیا جائے یہ نا جائز ہے کیونکہ اس تعلیم کو جس کے متعلق یہ دعوئی ہو کہ خدا کی طرف سے دنیا کی ہدایت کے لئے آئی ہے چھپانے کے معنے لوگوں کو ان کی غلطیوں پر آگاہ نہ کرنا ہے۔اپنے مذہب کی تعلیم کو بہائیوں کے چھپانے کی یہ وجہ ہے کہ تفصیلات میں جانے سے ایسے اعتراضات پڑتے ہیں جن کے ان کے پاس کوئی جواب نہیں اس لئے وہ زبانی تو بڑھ بڑھ کر باتیں بنائیں گے لیکن تفصیلی تعلیم نہ پیش کریں گے۔وہ یہ تو کہیں گے کہ سب کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہئے، سب کو متحد ہو جانا چاہئے، عورتوں کو حقوق دینے چاہئیں، سچ بولنا چاہئے۔اس قسم کی عام باتیں جب کوئی سنتا ہے تو سمجھتا ہے کیا اچھی تعلیم ہے حالانکہ یہ ایسی باتیں ہیں جو سب مذاہب میں پائی جاتی ہیں۔کوئی مذہب ایسا نہ ملے گا جس میں یہ کہا گیا ہو کہ جھوٹ بولنا چاہئے، لوگوں سے بدسلوکی کرنی چاہئے، عورتوں پر ظلم کرنا چاہئے۔یہ باتیں تو ایسی ہیں جنہیں سب مذاہب نے بُر اقرار دیا ہے۔اگر کوئی مذہب اتنا ہی کہتا ہے تو اس سے اس کی تعلیم کی خوبی نہیں ثابت ہو سکتی۔خوبی اور عمدگی تفصیلات سے معلوم ہوسکتی ہے جب یہ دیکھا جائے کہ ان باتوں کو عمل میں لانے کا کیا طریق اور کیا صورت بتائی جاتی ہے۔پس اعتراضات تفصیلات پر پڑتے ہیں اور یہ بہائی پیش نہیں کرتے۔یہ تو کوئی مذہب نہ کہے گا کہ فریب اور دھوکا کرنا چاہئے مگر جب تفصیل میں جائیں تو کئی باتیں اس مذہب میں ایسی پائی جائیں گی جو فریب اور دھوکا ہونگی۔پس تفصیل کے بغیر کسی مذہب کی اصلیت اور حقیقت معلوم نہیں ہو سکتی۔مثلاً کسی عیسائی سے پوچھو کہ تمہارے مذہب میں ظلم کرنا جائز ہے تو وہ کہے گا قطعا نہیں ہمارے مذہب میں بڑی سختی کے ساتھ اس سے روکا گیا ہے۔یہ جواب سن کر اگر کوئی شخص کہنے لگے یہ غلط کہا جاتا ہے کہ عیسائیت میں ظلم کی تعلیم ہے عیسائی تو اس کا انکار کرتے اور اس کی بجائے