خطبات محمود (جلد 12) — Page 121
خطبات محمود ۱۲۱ سال ۱۹۲۹ء سکتی تو بے اختیار اس کے منہ سے رام رام نکلنے لگا۔اگلے دن اُس کے دوستوں نے جب پوچھا کہ تمہیں اُس وقت کیا ہو گیا تھا اور تم نے کیوں رام رام پکارا جو کہ ہندؤوں میں خدا کے لئے ہی بولا جاتا ہے تو اُس نے کہا معلوم نہیں اُس وقت کچھ عقل ہی ماری گئی۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ اُس وقت اُس نے عقل سے کام لیا جب بچانے والے دنیوی اسباب اس کی نظر سے پوشیدہ ہو گئے تو اُس ذات خداوندی کے سوا کوئی مددگا ر سو جھائی نہ دیا۔دراصل جب تک ایسے انسان کو دوسرے ذرائع نظر آتے رہیں وہ اُدھر متوجہ رہتا ہے لیکن جب کوئی اور نظر نہ آئے تو اُس وقت اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے جب تک دوسرے اسباب نظر آتے رہیں اُن کی خوشامد میں اور بُرائیاں کرنے میں مصروف رہتا ہے لیکن جب سب طرف سے مایوسی ہو جائے تو خدا کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور الْحَمْدُ لِلهِ پکار اُٹھتا ہے۔میں نے جنگِ عظیم کا ایک واقعہ پہلے بھی کئی بار سنایا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے وقت میں دہر یہ بھی خدا تعالیٰ پر ایمان لے آتے ہیں۔۱۹۱۸ء میں جب جرمنی نے اپنی ساری طاقت جمع کر کے اتحادی افواج پر حملہ کر دیا تو انگریزی فوج پر ایک وقت ایسا آیا کہ کوئی صورت اس کے بچاؤ کی نہ رہی۔سات میل لمبی لائن تہہ و بالا ہوگئی کچھ حصہ فوج کا ایک طرف سمٹ گیا اور کچھ حصہ دوسری طرف اور درمیان میں اتنا خلا پیدا ہو گیا کہ جرمنی افواج وہاں سے گذر کر پیچھے سے حملہ کر کے تمام فوج کو تباہ کر سکتی تھیں۔اُس وقت جرنیل نے کمانڈر انچیف کو اطلاع دی کہ یہ حالت ہے اور میرے پاس سپاہی اتنے نہیں کہ اس صف کو درست کیا جا سکے۔یہ ایسی حالت تھی کہ وہ سمجھتے تھے آج ہماری تمام فوج تباہ ہو جائے گی اور انگلستان اور فرانس کا نام و نشان دنیا سے مٹ جائے گا۔انگریز کمانڈر انچیف نے اُس وقت وزارت کو تار دی کہ یہ وقت انتہائی بے بسی کا ہے ہماری صف ٹوٹ چکی ہے اور ہر لمحہ تباہی کا خطرہ لاحق ہے۔جب یہ تار پہنچا تو وزیر اعظم دیگر وزراء کے ساتھ مل کر کوئی مشورہ کر رہا تھا۔اُس وقت فوج نہ تو موجود ہی تھی اور اگر موجود بھی ہوتی تو بر وقت امداد کے لئے نہیں پہنچ سکتی تھی۔بیشک یورپ کا مذہب عیسائیت ہے لیکن اگر اس کی چھان بین کی جائے تو وہ بھی اندر سے بالکل کھوکھلا ہے اور اہل یورپ در حقیقت ماده پرست اور دہر یہ ہیں۔لیکن اُس وقت وہ مادہ پرست یورپ جس کی نگاہ کبھی خدا تعالیٰ کی طرف نہیں اُٹھتی اُس کی ایک زبر دست مادہ پرست حکومت کا سب سے بڑا سردار جو اپنی طاقت وقوت اور شان و شوکت کے گھمنڈ میں مست رہتا تھا اس نے بھی محسوس کیا کہ اس