خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 120

خطبات محمود سال ۱۹۲۹ء اچھی چیز ہے۔پھر کوئی وقت ایسا بھی آتا ہے کہ حکومت بھی انسان کا ساتھ نہیں دے سکتی ایسے وقت میں عام انسانی ہمدردی اس کے کام آتی ہے۔انسانی ہمدردی کی لہر ایک ملک یا کئی ممالک یا دنیا میں پیدا ہوتی ہے اور اس کی تائید میں انسانی ہمدردی کی ایک ایسی رو پیدا ہوتی ہے کہ وہ کامیاب ہو جاتا ہے تب اس کی نظر تمام دنیا پر پڑتی ہے اور وہ سوچتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے انسانوں میں کیسا عجیب رشتہ قائم کیا ہے۔لیکن ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اس کے اہل و عیال دوست احباب قوم یا نظام حکومت اور انسانی ہمدردی کی مدد سے بھی اسے کامیابی ناممکن نظر آتی ہے۔ایسی صورت میں کامیاب ہونے پر وہ سمجھتا ہے میری کامیابی میں کچھ حصہ غیبی امداد کا بھی ہے اور جس حد تک اسے غیبی امداد کا یقین ہوتا ہے وہ خیال کرتا ہے کہ یہ کام خدا تعالیٰ نے کر دیا۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جو کام اس نے خود کیا یا رشتہ داروں دوستوں نے کیا، نظام نے کیا، قوم یا حکومت نے کیا یا عام انسانی ہمدردی نے کیا، وہ بھی سب خدا تعالیٰ نے ہی کیا تھا۔لیکن ان میں چونکہ ظاہر ذرائع موجود تھے خدا تعالیٰ کی طرف اس کی نظر نہیں اٹھی تھی لیکن جب اسے کچھ غیبی امداد کا خیال ہوا اُس وقت اسے خدا تعالیٰ کا خیال آیا۔لیکن ایک وقت ایسا آتا ہے کہ کچھ بھی اس کے کام نہیں آسکتا اور صرف خدا تعالیٰ کی ذات رہ جاتی ہے اور خدا تعالیٰ کے سوا اُسے اور کچھ نظر نہیں آتا ایسے وقت بے اختیار ہو کر اس کے منہ سے الْحَمْدُ لِلَّهِ لکھتا ہے۔جب اسے کامیابی کا کوئی ذریعہ نظر نہیں آتا تو اَلْحَمْدُ لِلهِ اُس کے منہ سے نکلتا ہے۔دراصل اس میں اسی کیفیت کی طرف اشارہ ہے کہ ہر حکومت ہر قوم ہر انسان پر ایسا زمانہ آتا ہے جب تمام انسانی تدابیر اس کے لئے باطل ہو جاتی ہیں۔قرآن میں بھی خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسے وقت مشرک اور دہر یہ بھی بے اختیار ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔چنانچہ اس کی مثال دی ہے کہ جب طوفان بپا ہوتا ہے تو مشرک بھی کہہ اُٹھتے ہیں کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بچانے والا نہیں۔وہ وقت دراصل الْحَمدُ لِلهِ کہنے کا ہوتا ہے۔اُس وقت انسان کا قلب اور احساسات پورے طور پر یقین رکھتے ہیں کہ اس وقت خدا تعالیٰ کے سوا کوئی بچانے والا نہیں۔زلزلہ عظیمہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق آیا اُس وقت لاہور میڈیکل کالج کا ایک طالب علم جو روزانہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ خدا تعالیٰ کی ہستی کے متعلق بحث مباحثہ بلکہ مخول کیا کرتا تھا جس وقت اُس نے محسوس کیا کہ اب چھت گر کے ہی رہے گی اور یقین ہو گیا کہ اب کوئی طاقت بچا نہیں