خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 91 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 91

خطبات محمود ۹۱ ۱۲ سال ۱۹۲۹ء اسمبلی میں یم اور راجپال کا قتل (فرموده ۱۲۔اپریل ۱۹۲۹ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے کامیابی کے راستہ میں جو روکیں ہوتی ہیں ان کے متعلق ایک گر بتایا ہے اور وہ گر یہ ہے کہ نا کام رہنے والے لوگوں کی ناکامی کا سبب يُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ وَيَذَرُونَ وَرَاءَهُمْ يَوْمًا نَقِيلاً ہوتا ہے۔وہ نہایت ہی محدودنگاہ سے معاملات کو دیکھتے ہیں۔قریب ترین نتائج ان کے نزدیک محبوب ہوتے ہیں اور حقیقی اور اصلی، غیر متبدل اور دائمی اثرات و نتائج ان کے پیش نظر نہیں ہوتے۔دنیا میں جس قد ر لڑائیاں، فسادات اور جھگڑے پیدا ہوتے ہیں اگر ان کے اسباب پر غور کیا جائے تو ننانوے فیصدی ایسے نکلیں گے جن کا سبب فریقین میں سے کسی نہ کسی کا یا دونوں کا بغیر کافی غور و فکر کے جلدی سے کسی نتیجہ پر پہنچ جانا اور ایک عاجل نتیجہ پیدا کرنے کی کوشش کرنا ہوگا۔اگر انسان اپنے جوشوں کو دبائے رکھے اور اگر وہ یہ دیکھے کہ میرے اعمال کا نتیجہ کیا نکلے گا تو بہت سی لڑائیاں دور ہو جائیں، بہت سے جھگڑے بند ہو جائیں اور بہت سے فسادات مٹ جائیں۔میں دیکھا ہوں ہندوستان میں اس وقت متواتر کئی سال سے فساد شروع ہے۔قوموں میں اختلاف ہے مذاہب میں تفرقہ ہے حکومت اور رعایا میں کشمکش جاری ہے ان سب کی وجہ يُحِبُّونَ العَاجِلَةَ وَيَذَرُونَ وَرَاءَهُمْ يَوْمًا ثَقِيلاً ى ہے۔عاجل نتیجہ کو لوگ پسند کر رہے ہیں اور ایک بھاری آنے والے دن کو نظر انداز کر رہے ہیں۔