خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 548 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 548

خطبات محمود ۵۴۸ سال ۱۹۳۰ء ایک ریزولیوشن پاس کیا ہے۔گورنر صاحب تو بچ گئے لیکن ایک ہندوستانی مارا گیا اس سے زیادہ یرا اور بزدلی کا فعل کیا ہو سکتا ہے کہ ایک شخص پر اچانک حملہ کر دیا جائے بہادر کا کام ہے کہ مقابلہ کرے۔ہجوم میں کھڑے ہو کر گولی چلانے کے یہ معنے ہیں کہ دوسرا تو اس خیال سے کہ بے گناہ زخمی نہ ہو جائیں مجھے پر حملہ نہیں کرے گا اور میں جسے چاہوں مارسکتا ہوں۔تو گویا ایسا شخص زبان حال سے انگریزوں کی شرافت اور اپنی کمینگی کا اقرار کرتا ہے اور اس سے وہ اپنی قوم کی بھی ہتک کرتا ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ میں اتنا کمینہ ہوں کہ ایک ایسی جگہ جہاں اور بے گناہ لوگوں کو بھی گولی لگ جانے کا امکان ہے بے تحا شا گولی چلا سکتا ہوں مگر انگریز اس خیال سے کہ کسی اور کو نہ لگ جائے ہجوم میں مجھ پر فائر نہیں کریں گے اور اس سے زیادہ کوئی شخص اپنی قوم کی ذلت اور کیا کر سکتا ہے۔اسلام کی تعلیم کے مطابق حضرت رسول کریم ع کبھی بے گناہ لوگوں پر حملہ نہ کرتے تھے بلکہ بعض دفعہ صحابہ کہتے کہ اب دشمن غافل ہے یا ہو یا ہوا ہے حملہ کر دیا جائے تو آپ فرماتے نہیں ٹھہر و صبح اذان دیں گے اور پھر حملہ کریں گے مگر ہندوستانی ان دنوں بے گناہ لوگوں پر گولی چلا کر اپنی قوم کی توہین کر رہے ہیں۔پھر یہ کس قدر بے حیائی ہے کہ عورتوں کو آگے کر دیتے ہیں اور آپ پیچھے رہتے ہیں گویا خود اقرار کرتے ہیں کہ ہم تو ایسے ذلیل ہیں کہ عورتوں کے پیچھے چھپتے ہیں مگر ہمارا دشمن ایسا شریف ہے کہ وہ عورتوں پر حملہ نہیں کرے گا۔غرضیکہ یہ تمام افعال ناشائستہ ہیں اور چونکہ ہماری جماعت کا فرض ہے کہ اخلاق کو دنیا میں قائم کرے اس لئے اس حالت کو تبدیل کرنے کی کوشش کرنا ہمارا فرض ہے۔ممکن ہے کہ بعض لوگ ایسے بھی ہوں جو کہہ دیں کہ یہ لوگ اپنے ملک کی خیر خواہی کر رہے ہیں ہمیں انہیں بُرا کہنے کی کیا ضرورت ہے مگر یہ خیر خواہی ویسی ہی ہے جیسے ایک قصہ حضرت مسیح موعود سنایا کرتے تھے کہ کسی شخص کی ریچھ کے ساتھ دوستی تھی اور جس طرح لوگ کرتے اور دوسرے جانوروں کو سیدھا لیتے ہیں اُس نے اسے سیدھایا ہوا تھا۔ایک شخص کی ماں سو رہی تھی اور کچھ بیٹھا اس کی لکھیاں اڑا رہا تھا ایک لکھی بار بار آ کر بیٹھتی تھی جسے وہ بار بار اُڑانے سے تنگ آ گیا آخر اس نے ایک پتھر اُٹھا کر مارا جس سے ماں بھی مر گئی۔پس یہ خیر خواہی بھی اس ریچھ کی خیر خواہی سے مشابہ ہے۔اگر حکومت کے حصول کے لئے ضمیر کو تباہ کر لیا جائے تو آئندہ نسل چوروں، ڈاکوؤں اور فریبیوں کی پیدا ہوگی اور ایسے لوگوں کو اب کس نے قید کر رکھا ہے یہ تو اب بھی آزاد ہی ہیں جسے چاہیں مار