خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 547 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 547

خطبات محمود ۵۴۷ سال ۱۹۳۰ء میں اٹھا لیتا ہوں اور اندر جا کر صاحب کے سامنے رکھ دی۔اس نے سمجھا یہی لایا ہے اور وہ تمام وقت اس سے باتیں کرتا رہا۔بڑا افسر باہر نکل کر اس سے لڑنے لگا۔چھوٹے نے کہا آپ میرے افسر تھے میں آپ کو کیوں اُٹھانے دیتا مگر اُس کا منشاء یہ تھا کہ چونکہ قیمت میں نے خرچ کی تھی اس لئے میرے ہی ہاتھ سے پیش ہونا ضروری تھا۔تو اپنے ہاتھ سے نیکی کے کام کرنے سے انسان کو زیادہ ثواب حاصل ہوتا ہے اسی لئے اسلام نے دو قسم کے صدقے رکھے ہیں۔ایک لوگ براہ راست کرتے ہیں اور دوسرے حکومت کے ذریعہ سے تقسیم ہوتے ہیں تا ہر جگہ پہنچ جائیں اور دینے والے کو ثواب بھی ملے۔ایک شخص اگر افریقہ کے کسی مصیبت زدہ کیلئے چار آنے دینا چاہے تو یہ اس کے لئے مشکل ہے کیونکہ وہ بھیج نہیں سکتا مگر حکومت کے ذریعہ یہ وہاں بھی پہنچ سکتا ہے۔تو شریعت نے ایک صدقہ حکومت کی معرفت رکھا ہے تا انسان بھی رَبُّ العلمین کی صفت اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرے اور سب کو فائدہ پہنچائے۔تو یہی خواہشات ہیں جن کے ماتحت ہر مسلمان کے دل میں یہ بات ہے کہ اس کا ملک آزاد ہو تا حکومت کے ذریعہ بہتری کے کاموں میں وہ خود حصہ لے سکے لیکن ساتھ ہی اسلام کا یہ حکم بھی ہے کہ ہر کام صحیح اور درست ذریعہ کے ساتھ ہو۔غلط طریق سے اچھے سے اچھا کام بھی خدا تعالیٰ کو پسند نہیں۔نادانی سے بعض لوگ اچھی چیز کو بُر ا بنا لیتے ہیں اور بعض عقل سے بُری کو بھی اچھا کر لیتے ہیں۔سنکھیا زہر ہے مگر ڈاکٹر لوگ اس سے کئی لوگوں کی جانیں بچا لیتے ہیں اور پلاؤ کتنا اچھا ہے مگر کوئی اگر اتنا کھا جائے کہ ہیضہ ہو جائے تو یہی اس کے لئے ہلاکت کا موجب ہوسکتا ہے۔اسلام ہر گز اجازت نہیں دیتا کہ ان ذرائع سے جن کے نتیجہ میں اخلاق تباہ ہوں نیز دلی پیدا ہو ٹھگی ، فریب اور دروغگو ئی وغیرہ سے کام لینا پڑے ان سے کوئی عمدہ اور اعلیٰ کام بھی کیا جائے۔مگر افسوس ہے کہ آج کل بعض لوگ ناجائز طریقوں سے ہندوستان کو آزاد کرانا چاہتے ہیں حالانکہ اس طرح سے حاصل کردہ آزادی غلامی سے بھی بدتر ہے کیونکہ ایسا کرنے سے ملک کے اخلاق تباہ ہوتے ہیں۔یہ بات کسی مذہب میں بھی جائز نہیں کہ راہ چلتے بے گناہ لوگوں پر حملے کئے جائیں۔اگر بالفرض یہ تسلیم کر لیا جائے کہ انگریز افسروں کا مارنا جائز ہے تو اندھا دھند پستول بازی سے جو دوسرے لوگ مارے جاتے ہیں یہ تو بہر حال نا جائز ہی ماننا پڑے گا۔مثلاً یہی حملہ ہے جو حال ہی میں گورنر پنجاب پر کیا گیا ہے اور جہل کے متعلق آپ لوگوں نے آج