خطبات محمود (جلد 12) — Page 549
خطبات محمود ۵۴۹ سال ۱۹۳۰ء دیں اور ٹوٹ لیں۔مادر پدر آزاد کو کوئی قید نہیں۔قید تو اسی صورت میں ہے کہ انسان شرافت کے اصول کو تسلیم کرے اور اگر ایسی آزادی حاصل ہو جو آئندہ نسل کو جھوٹا، فریبی اور بُز دل بنائے تو اس کی کیا قیمت ہو سکتی ہے اور اس اصول کو تسلیم کر لینے سے کبھی امن نہیں ہو سکتا۔ظلم کا خیال تو لوگوں میں ہر وقت پایا جاتا ہے حتی کہ رسول کریم نے ایک موقع پر مال تقسیم کیا تو ایک شخص نے کہہ دیا کہ اس تقسیم میں اللہ تعالیٰ کی رضاء مدنظر نہیں رکھی گئی اور انصاف سے کام نہیں لیا گیا۔اس پر رسول کریم نے فرمایا اگر میں انصاف نہیں کرتا تو اور کون کرے گا۔سے اگر چہ اُس شخص کا یہ خیال غلط تھا مگر اُس نے کہہ تو دیا اور اس کے دل میں بھی یقینا یہی ہوگا غرض ایسی شکایات ہمیشہ پیدا ہوتی رہتی ہیں۔فرض کرو ہندوستانیوں کی اپنی حکومت قائم ہو جائے تو اس سے بھی کئی ایک کو اختلاف پیدا ہو گا اور اگر یہ اصول تسلیم کر لیا جائے تو خواہ گاندھی، نہرو وغیرہ کوئی بھی حکمران ہو اُس کے خلاف کئی لوگوں کا ہونا یقینی ہے اور اس طرح وہ انہیں علیحدہ کرنے کی کوشش کریں گے اور ہندوستان میں امن و امان کسی صورت میں بھی قائم نہ ہو سکے گا بلکہ ہمیشہ خونریزی جاری رہے گی۔مگر شریف آدمی بلا وجہ تو در کنار لڑائی میں بھی دوسرے کو مارنے سے گریز کرتا ہے۔ایک جنگ کے موقع پر ایک کافر نے رسول کریم ﷺ سے جنگ کرنے کی خواہش کی دوسرے صحابہ اس کے مقابل پر نکلے مگر آپ نے فرمایا : نہیں اسے میرے سامنے ہی آنے دو۔اس نے آپ کی جان لینے کی انتہائی کوشش کی وہ ایک مشہور جرنیل تھا مگر آپ کو کوئی گزند نہ پہنچا سکا اس پر بھی آپ نے اسے مارا نہیں بلکہ صرف نیزہ کی آنی اس کی گردن میں چھودی جس سے وہ چیخنے لگا۔اور کہتا تھا یوں معلوم ہوتا ہے میرے اندر آگ لگی ہوئی ہے۔تو رسول کریم اللہ نے ایسے شدید معاند کو بھی جان سے نہیں مارا۔بلکہ صرف زخمی کر کے چھوڑ دیا۔حالانکہ میدان جنگ میں مخالف کو قتل کرنا شرافت اور انسانیت کی رو سے مارنا جائز سمجھا گیا ہے۔شریف آدمی کسی خاص مجبوری کے سوا یوں گھلے بندوں کسی کو مارنے سے ہمیشہ گریز کرتے ہیں۔ان لوگوں کے متعلق جو ایسے جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں جن کی سزا قتل ہے اور پھر وہ گرفتار نہیں ہوتے بعض دفعہ حکومت بھی اعلان کر دیتی ہے کہ جہاں ملیں مار دو۔رسول کریم لے کے زمانہ میں بھی ایسی مثالیں ملتی ہیں یہ اور چیز ہے۔لیکن بغیر کسی جرم کے حکومت کی اجازت اور