خطبات محمود (جلد 12) — Page 508
خطبات محمود ۵۰۸ سال ۱۹۳۰ء کے لئے سب کچھ ہو سکتا ہے۔ اس لئے اُس کے حضور جھک کر دعائیں کرنی چاہئیں ۔ ہماری بات کوئی ممکن ہے نہ سنے مگر خدا تعالیٰ کی بات سننے سے کون انکار کر سکتا ہے۔ ہم کوئی بات کان کے ذریعہ سناتے ہیں اور سننے والا کان میں انگلی ڈال سکتا ہے مگر خدا تعالی دماغ میں ڈالتا ہے اور وہاں انگلی نہیں ڈالی جا سکتی ۔ ہم جسم پر قبضہ کرتے ہیں اور جسم چھڑایا جا سکتا ہے مگر خدا تعالیٰ دل پر قبضہ کرتا ہے اور دل پر کسی کا قابو نہیں چل سکتا ۔ بعض اوقات انسان ایک بات چھوڑ نا چاہتا بھی ہے مگر نہیں چھوڑ سکتا کیونکہ دل پر اس کا قابو نہیں چل سکتا۔ بعض اوقات کسی بیمار کو کہا جاتا ہے کہ فلاں بات چھوڑ دو مگر وہ یہی جواب دیتا ہے کہ کیا کروں دل پر قابو نہیں ۔ لیکن سب کے دل خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہیں اس لئے اس سے دعائیں کرنی چاہئیں ۔ لوگوں کی صحت کے لئے بھی اور اس اہم سوال کے لئے بھی جس کا اثر بہت دیر پا ہوگا ۔ یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ اب جو فیصلہ ہوگا وہ سو سال تک قائم رہے گا یا پچاس سال یا میں سال تک یا سو سال سے بھی زیادہ عرصہ تک ۔ کس کو پتہ تھا کہ روس میں انقلاب اس قدر جلد ہو جائے گا یا جرمنی میں اس طرح یکا یک تغیر واقع ہو گا۔ عین ممکن ہے کہ اس فیصلہ کے بعد جلد ہی کوئی ایسی صورت پیدا ہو جائے کہ موجودہ نظام یک لخت درہم برہم ہو جائے مگر ظاہراً تو اس کا اثر دیر پا ہی معلوم ہوتا ہے۔ پس خدا تعالیٰ سے دعا کرنی چاہئے کہ وہ ایسے سامان پیدا کر دے کہ ملک میں اسلام اسلام کی تبلیغ نہر - ندر کے بلکہ ترقی کے سامان ( الفضل ۱۳۔ نومبر ۱۹۳۰ء ) پیدا ہوتے جائیں ۔ تذکره صفحه ۴۲۰ ۔ ایڈیشن چهارم البقرة : ۱۵۶