خطبات محمود (جلد 12) — Page 509
خطبات محمود ۵۰۹ ۶۳ سال ۱۹۳۰ء سالانہ جلسہ خدا تعالیٰ کا ایک زبر دست نشان ہے (فرموده ۲۸ نومبر ۱۹۳۰ء) تشہد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: پچھلے دنوں پھوڑے اور در دسر اور در دکان کی تکلیف کی وجہ سے میں دو جمع نہیں پڑھا سکا اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے باقی تکالیف سے تو افاقہ ہے لیکن کان کے درد کی وجہ سے ایسی تکلیف ہو گئی ہے جو پہلے کبھی نہیں ہوئی۔کان کچھ بہرے ہو گئے ہیں اور کچھ اونچا سنائی دینے لگا ہے۔ہر ایک انسان کسی مشکل سے گزر کر ہی اس کا پورا پورا احساس کر سکتا ہے۔بہروں کے لئے جو تمہیں ہوتی ہیں انسان انہیں تب ہی محسوس کر سکتا ہے جب خود اس تکلیف میں مبتلاء ہو۔ایک تقریر کرنے والے کے لئے کانوں کا نقل نہایت تکلیف دہ چیز ہے کیونکہ وہ اس امر کا انداز نہیں کرسکتا که آواز سب کو پہنچ رہی ہے یا نہیں وہ مجمع کے اندازہ سے بول رہا ہے یا ضرورت سے زیادہ اونچی آواز سے تقریر کر رہا ہے چنانچہ اس وقت میں بھی یہ محسوس نہیں کر سکتا کہ میں مجمع کے مطابق پوری آواز سے بول رہا ہوں یا نہیں۔میں آج اس امر کے متعلق کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ اب خدا تعالیٰ کے فضل سے پھر ہمارا سالانہ جلسہ قریب آ رہا ہے۔یہ جلسہ جیسا کہ میں پہلے بھی متعدد بار بیان کر چکا ہوں اللہ تعالیٰ کے نشانوں میں سے ایک نشان ہے۔قادیان وہ مقام ہے کہ ایک دن اس طرف کوئی رُخ بھی نہیں کرتا تھا۔کئی لوگ اس قسم کے تھے جو قادیان اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام سُن کر بڑ کی بڑی دور سے قادیان پہنچنے کی خواہش سے روانہ ہوتے تھے مگر بٹالہ یا امرتسر پہنچ کر واپس ہو