خطبات محمود (جلد 12) — Page 47
خطبات محمود ۴۷ سال ۱۹۲۹ء صادر خدا تعالیٰ کی ذات سب خوبیوں کی جامع اور تمام عیوب سے منزہ ہے فرموده ۱۵- فروری ۱۹۲۹ء بمقام پھیر و چیچی ) سے ان ابتلاؤں اور تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا : قرآن شریف کی ابتداء اللہ تعالیٰ نے الْحَمْدُ لِلهِہ سے رکھی ہے یعنی شروع میں ہی بندے سے یہ اقرار کرایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی ساری خوبیوں اور تعریفوں کا جامع ہے اس کے تمام احکام حکمت کے ماتحت ہوتے ہیں اور وہ جو کچھ اپنے بندے سے کرانا چاہتا ہے یا جس بات کے کرنے کا اپنے بندے کو حکم دیتا ہے وہ ضرور کسی نہ کسی خوبی پر مشتمل ہوتی ہے ۔ جو امور اس کی طرف سے اور ہوتے ہیں سب خیر و برکت کا موجب ہوتے ہیں ۔ بعض لوگ نادانی سے تکلیفوں کو جو انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہیں کبھی بیماریوں کی صورت میں، کبھی مالی نقصان کبھی جانی نقصہ ان کی صورت میں، کبھی غربت کی صورت میں، کبھی ناکامی کی صورت میں، کبھی مقصد و مدعا کے حاصل نہ ہونے کی صورت میں ظاہر ہوتی رہتی ہیں خدا تعالیٰ کی حمد کے خلاف سمجھ لیتے ہیں اور خیال کر لیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مصیبتیں اور بلائیں بھی ہیں اور لاکھوں انسان ایسے ہیں جو یہ کہہ دیا کرتے ہیں جب ساری تعریفیں اللہ کے لئے ہیں تو دُنیا میں چوری اور ڈاکہ زنی کون کراتا ہے لڑائی جھگڑے کس کے ذریعہ ہوتے ہیں؟ بجلیاں کیوں گرتی ہیں؟ طوفان، آندھیاں اولے برف بارشوں کی کثرت، خشکی یعنی پانی نہ برسنے کی تکلیف یہ تمام تکالیف کہاں سے آتی