خطبات محمود (جلد 12) — Page 445
خطبات محمود ۴۴۵ سال ۱۹۳۰ء کوئی نہیں ہندو مہا سبھا صاف انکار کر چکی ہے مگر انگریز تو کہتے ہیں تمہارے حقوق ہیں اور ہم ضرور دیں گے ۔ پس بظاہر یہ دلیل جو خوبصورت نظر آتی ہے لیکن دراصل یہ صیح نہیں ۔ چونکہ پہلے مضمون پر میں تفصیل سے بول چکا ہوں اس لئے اس پر اور زیادہ اس وقت نہیں بولتا ہاں اس کے متعلق الفضل میں اعلان ہو جانا چاہئے کہ کانگریس والوں کی طرف سے اگر کوئی نئی بات پیش کی جائے یا میرے خطبات پر کوئی اعتراض ہو تو وہ لکھ بھیجا کریں تا میں اس کا جواب دے دیا کروں ۔ ممکن ہے۔ اس کے متعلق خطبات کا سلسلہ تو شاید بند کرنا پڑے کیونکہ دیگر مذہبی امور بھی توجہ کے محتاج ہیں مگر تحریروں کے ذریعہ میں ضرور ان کے جوابات دیا کروں گا ۔ میرے خیال میں ابھی ایک سوال بہت اہم ہے اور وہ یہ کہ آخر مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے؟ میں اس کے متعلق ضرور کچھ بولنا چاہتا ہوں یا اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو مضامین کے ذریعہ اس پر روشنی ڈالوں گا۔ ہاں احباب کو جو اعتراض نئے پیش آئیں یا میرے خطبات پر دوسروں کی طرف سے کوئی اعتراض ہوں وہ لکھ بھیجا کریں تا مضمون زیادہ مکمل ہو سکے ۔ الانفطار : ۲۰ الحج: ام ( الفضل ۱۲ ۔ جون ۱۹۳۰ء ) بخاری كتاب الجهاد و السير باب من علق سيفه بالشجر في السفر عند القائلة تذکره صفحه ۳۹۷۔ ایڈیشن چهارم