خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 446 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 446

خطبات محمود ۵۵ سال ۱۹۳۰ء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کے خلاف تفسیر کرنے کے خطرناک نتائج فرموده ۲۷ جون ۱۹۳۰ء) تشہد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حسب ذیل آیات تلاوت فرما ئیں۔إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هَادُوا وَالتَّصْرُى وَالطَّبِينَ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَرَتِهِمْ وَلاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ - وَإِذْ اَخَذْنَا مِيْنَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطَّورَ خُدُوا مَا أَتَيْنَكُمْ بِقُوَّةٍ وَاذْكُرُوا مَا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ، ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ۔فَلَوْلاً فَضْلُ اللهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لَكُنتُمْ مِّنَ الْخَسِرِينَ فرمایا: مجھے پچھلے دو ہفتوں میں متعدد دوستوں کے ذریعہ یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ قادیان کے ایک درس قرآن کریم میں بعض ایسے معانی بیان کئے گئے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بتائی ہوئی تعلیم اور سلسلہ کے اس عام دستور کے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کے ما تحت قرآن کریم کی تفسیر میں ہم نے عائد اور جاری کیا ہوا ہے خلاف تھے۔مجھے بتایا گیا کہ درس دینے والے صاحب نے یہ بات بیان کی ہے کہ قرآن کریم میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا جو پتھر سے پانی نکالنے کا معجزہ بیان کیا گیا ہے اس کے یہ معنے ہیں کہ فی الواقع ایک ایسے پتھر سے جس کا زمین سے کوئی تعلق نہ تھا بلکہ اسے انہوں نے اُٹھایا ہو ا تھا' سونٹا مار کر بارہ چشمے جاری کر دیئے۔