خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 444 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 444

خطبات محمود سلوم سوم مهرم سال ۱۹۳۰ء سے روکا جاتا ہے۔فتنہ ارتداد کے زمانہ میں بھرت پور کے سرکاری افسر شدھی میں حصہ لیتے رہے ایک جگہ انہوں نے پاس کھڑے ہو کر اور لوگوں کو مجبور کر کے شدھ کرایا لیکن اس کے بعد یہ احکام نافذ کر دیے کہ یہاں کسی آریہ لیکچرار یا مسلمان مبلغ کو آنے کی اجازت نہیں مگر معنی اس کے یہی تھے کہ مسلمان یہاں آکر تبلیغ نہ کر سکیں۔جب میں نے مبلغ وہاں بھیجے تو ان کو یہی کہہ کر نکال دیا گیا کہ یہاں آریہ پر چارکوں کو بھی آنے کی اجازت نہیں اور مسلمان مبلغ بھی نہیں آ سکتے اور گورنمنٹ کو بھی یہی لکھ دیا گیا کہ ہم نے امن قائم کرنے کے لئے دونوں جانب کے مبلغوں کا داخلہ بند کر دیا ہے۔اسی طرح الور میں ہوا وہاں کافی لوگوں کو شدھ کر لیا گیا اور جب ہمارے آدمی وہاں پہنچے تو سیشن جج نے فیصلہ کر دیا کہ آریہ اور مسلمان دونوں اقوام کے مبلغ یہاں سے چلے جائیں۔بظاہر تو یہ حکم بہت ہی قرین انصاف معلوم ہوتا ہے کہ دونوں کے لئے ایک سا حکم جاری کیا گیا مگر در حقیقت یہ مسلمانوں سے صریح بے انصافی تھی۔آریہ جب اپنا کام کر چکے تو انہیں آنے کی کیا ضرورت تھی اس کے تو یہی معنے تھے کہ مسلمان دوبارہ وہاں آ کر تبلیغ نہ کر سکیں۔پس اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ انگریز اور ہندو دونوں بُرے ہیں تو بھی موجودہ مصیبت کو چھوڑ کر نئی اختیار کرنا عقلمندی نہیں۔اگر انگریزوں سے ہمیں کوئی فائدہ نہیں تب بھی وہ ہندوؤں کی مصیبت سے اچھے ہیں کیونکہ کم تعداد میں ہیں اور باہر سے آئے ہوئے ہیں لیکن ہندوؤں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور وہ یہیں کے رہنے والے ہیں۔انگریزوں سے اگر عدم تعاون کیا جائے تو وہ اس سے دب بھی سکتے ہیں۔ابھی دیکھ لوتھوڑے ہی عرصہ سے ان کے کپڑے کا بائیکاٹ کیا گیا ہے اور وہ صلح کے لئے بے حد کوشش کر رہے ہیں لیکن اگر مسلمان ہندوؤں سے اس قسم کا سلوک کریں تو ان پر قطعاً کوئی اثر نہیں ہوگا کیونکہ یہاں ان کی اپنی تعداد اس قدر کافی ہے کہ ان کے کام چل سکتے ہیں۔پھر وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ مسلمان لمبا عرصہ مقابلہ نہیں کر سکتے کیونکہ ایک تو ان کی تعداد کم ہے دوسرے ان کے پاس اس قدر سرمایہ نہیں۔اس لئے یہ خیال غلط ہے کہ دونوں سے عدم تعاون برا بر ہے۔کیونکہ اول تو ہم تصفیه حقوق کی وجہ سے کانگریس سے عدم تعاون نہیں کر رہے۔پھر اگر ہندو اور کانگریس دونوں کو برابر تسلیم کر لیا جائے تو بھی ہند و انگریزوں سے اچھے نہیں ہو سکتے۔انگریزوں نے تو کچھ حقوق مقرر کئے ہیں اور کہتے ہیں ہم آہستہ آہستہ یہ دے دیں گے لیکن ہند و تو مسلمانوں کو سرے سے ہی جواب دے رہے ہیں اور کہتے ہیں تمہارے حقوق ہی