خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 42 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 42

خطبات محمود XXXXX ۲ سال ۱۹۲۹ء نام تک نہ لیں ۔ جب علاقہ ملکا نا میں آریوں نے شورش برپا کی تو سارے ملک میں شور پڑ گیا کہ احمدی ان کے مقابلہ کے لئے انھیں لیکن جب ہمارے آدمیوں نے جا کر آریوں کو شکست دی تو پھر احمدیوں کا نام لینا بھی ان لوگوں کے نزدیک گناہ ہو گیا ۔ اُس وقت یہی کہنے لگے کہ فلاں جمعیت نے یہ کام کیا اور فلاں نے یہ ۔ حالانکہ اگر آریوں کی گواہی لیں تو وہ بھی یہی کہیں گے کہ جتنا کام کیا احمد یوں نے کیا اور کسی نے نہیں کیا اور احمدی ہی ان کے راستہ میں نہ ہٹنے والی روک ثابت ہوئے ۔ تو ہماری مخالفت ہر موقع پر کی جاتی ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ کہا گیا تھا اُس کا ہاتھ سب کے اور سب کے ہاتھ اُس کے خلاف اٹھیں گے ۔ غرض دوسرے لوگ ضرورت کے وقت ہم سے فائدہ اٹھا لیں گے مگر اپنے ہاتھ ہمارے خلاف ہی اٹھائے رکھیں گے ۔ بے شک سارے کے سارے لوگ ایسے نہیں ایسے افراد بھی ہیں جو ہمارا ساتھ دیتے ہیں مگر قومی طور پر ہماری مخالفت ہی کی جاتی ہے۔ ان کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ہم اعتقاد رکھتے ہیں کہ حضرت کرشن نہیں ہیں اور کئی ہندو ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا نبی ماننے کیلئے تیار ہیں مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ متحدہ طور پر یہ مانتے ہیں بلکہ یہ ہیں کہ وہ اپنی قوم سے الگ ہو کر مانتے ہیں مگر ہم حضرت کرشن کو متحدہ طور پر نبی مانتے ہیں۔ ان میں سے ایسے لوگ بھی ہیں جو رسول کریم لعل کو گالیاں دیتے کو گالیاں دیتے ہیں مگر کوئی ایک احمدی بھی ایسا نہ احمدی بھی ایسا نہ ہو گا جو حضرت کرشن کو گالی دے اور اگر کوئی دے گا تو ساری جماعت اس کے خلاف ہوگی۔ لیکن اگر کوئی ہندو رسول کریم ﷺ کو نبی مانتا ہے تو اپنی قوم سے علیحدہ ہو کر مانتا ہے قوم اس کا ساتھ دینے کے لئے تیار نہیں بلکہ وہ گالیاں دینے والوں کا ساتھ دیتی ہے۔ پس اگر کوئی کہے کہ ہماری جماعت کی فلاں ایڈیٹر یا فلاں ماسٹر یا فلاں پروفیسر بڑی تعریف کرتا ہے تو یہ مِنْ حَيْثُ الْقَوْمِ تعریف نہ ہوگی بلکہ مِنْ حَيْثُ الأفراد تعریف کرنے والے ہونگے ۔ صلى الله تو ہماری جماعت کے لوگوں کو یہ خیال رکھنا چاہئے کہ ہماری کامیابی کا سارا دارو مدار خدا کے فضل اور ہماری اپنی کوششوں پر ہے۔ جب تک یہ بات ہماری آنکھوں کے سامنے نہ ہوگی کہ اگر ترقی ہوئی تو محض اپنی کوشش اور سعی سے ہو گی اُس وقت تک کبھی ترقی حاصل نہ ہوگی ۔ جب ہمیں یہ بھروسہ ہو گا کہ ہمارا دایاں اور ہمارا بایاں دوسری قو میں سنبھالیں گی تو یہ ہماری شکست کا وقت ہوگا۔ ہمارا دایاں ہمارا بایاں ہمارا اگلا ہمارا پچھلا اور ہمارا وسط ہمیں خود سنبھالنا ہو گا تب