خطبات محمود (جلد 12) — Page 43
خطبات محمود سال ۱۹۲۹ء ترقی حاصل ہو گی اسی لئے میں بار بار کہہ چکا ہوں کہ اپنی جماعت کو دنیا میں پھیلاؤ اور بڑھاؤ۔جلسہ سالانہ کے موقع پر میں نے اس طرف توجہ دلائی تھی اسی بات کو اس وقت میں تفصیل سے بیان کر رہا ہوں کہ ہر احمدی اقرار کرے کہ وہ سال میں کم از کم ایک احمدی بنائے گا اس طرح ایک سال کے اندراندر جماعت کا دُگنا ہو جانا معمولی بات ہے اس طرح تھوڑے سے عرصہ کے چکر میں ہماری تعداد کہیں سے کہیں جا پہنچتی ہے۔کہتے ہیں جس شخص نے شطرنج کا کھیل ایجاد کیا جس میں ۶۴ خانے ہوتے ہیں وہ اسے بادشاہ کے پاس لے گیا۔بادشاہ کو یہ کھیل بہت پسند آیا اور اس نے اسے کہا جو چاہو انعام مانگ لو۔اس نے پہلے تو کہا کہ میں تحفے کے طور پر لایا ہوں کوئی انعام نہیں لینا چاہتا لیکن جب بادشاہ نے زور دیا تو اس نے کہا اگر آپ مجھے کچھ دینا ہی چاہتے ہیں تو ایک خانہ میں ایک کوڑی اور دوسرے میں دو اسی طرح دوگنی رکھ کر دے دی جائیں۔بادشاہ نے یہ سن کر کہا میں نے تو تمہیں بڑا اعظمند سمجھا تھا مگر یہ بات تو تم نے پاگلوں والی کی ہے۔اس نے کہا جب آپ نے کہا ہے میں جو چاہوں مانگوں تو اب اس بات کو پورا کیجئے۔بادشاہ نے کہا میں تو تمہیں نصف بادشاہت تک دینے کے لئے تیار تھا مگر تم نے مانگا ہی کچھ نہیں اب جو چاہتے ہو وہی لے لو۔بادشاہ نے خزانچی کو بلا کر کہا کہ جس طریق سے یہ کہتا ہے کوڑیوں کا حساب کر کے جتنے روپے بنتے ہیں اسے دے دو۔تھوڑی دیر کے بعد خزانچی بادشاہ کے پاس آکر کہنے لگا اس حساب سے خزانہ تو سارا خالی ہو گیا ہے لیکن خانے ابھی باقی ہیں کیونکہ ہر خانہ میں دوگنی رقم کرنے سے اربوں ارب روپیہ دینا پڑا۔اس پر اُس شخص نے بتایا میں حساب کا کمال بتانا چاہتا تھا اس لئے یہ مطالبہ کیا تھا۔تو دو گنا ہونے سے اتنی جلدی ترقی ہو سکتی ہے کہ دنیا دنگ رہ جائے۔مثلاً اگر اس تحریک پر ایک سو آدمی ہی ایسے نکل آئیں جو عہد کریں کہ ہر سال ہم اپنی تعداد کو دوگنا کر لیا کریں گے تو سو سال کے اندر اندر ساری دُنیا کو احمد کی بنا سکتے ہیں۔ایک سو آدمی ایک سال کے بعد دو سو ہو جائیں گئے دو سال کے بعد چارسو تین سال کے بعد آٹھ سو چوتھے سال کے بعد سولہ سو پانچویں سال کے بعد نہیں سو چھٹے سال کے بعد چونسٹھ سو ساتویں سال کے بعد بارہ ہزار آٹھ سو آٹھویں سال کے بعد پچیس ہزار چھ سو نویں سال کے بعد اکاون ہزار دوسو دسویں سال کے بعد ایک لاکھ دو ہزار چار سو گیارھویں سال کے بعد دو لاکھ چار ہزار آٹھ سو بارھویں سال کے بعد چار لاکھ نو ہزار چھ سو اسی طرح سو سال کے بعد دنیا کی