خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 37 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 37

خطبات محمود ۳۷ سال ۱۹۲۹ء اس کے اپنے دل کی کیفیتیں ہیں یا دوسرے لوگوں کے دلوں کی۔مثلاً ایک شخص جس کے دل کو خدا تعالی نے ہر قسم کی بُرائی سے محفوظ رکھا ہوا گر کہے چونکہ میں چوری نہیں کرتا اس لئے کوئی بھی چوری نہیں کرتا اور اپنے دروازے کھلے چھوڑ کر سو جائے تو اس کا مال محفوظ نہ رہے گا یا ایک ایسا شخص جو کسی کا دل دُکھانا بھی گناہ سمجھتا ہو اور جس کے نزدیک کسی کی جان لینا سوائے اس صورت کے کہ اسلام کا حکم ہو یا حکومت کا حکم ہو کسی انسان کا فعل ہی نہ ہو وہ اپنے آپ کو دشمنوں کے حوالے کر دے اور سمجھے کہ یہ کہاں میری جان لے سکتے ہیں تو اس کی جان خطرہ میں ہوگی۔یا مثلاً ایک ایسا آدمی جس میں دیانت داری کا مادہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہو جس کے پاس لوگ لاکھوں روپے کی امانتیں رکھیں اور وہ ان کی حفاظت کو اپنا مقدس فرض سمجھتا ہو اگر وہ یہ خیال کرے کہ ساری دنیا ہی ایسی ہے اور لوگوں کو اپنا مال یوں ہی دیدے کوئی تحریر وغیرہ نہ کرائے تو اس کا مال محفوظ نہ ہوگا۔یا مثلاً ایک ایسا شخص جس کے ہاتھ آنکھ اور زبان سے لوگوں کی عزت و آبرو محفوظ رہتی ہو اگر وہ یہ خیال کرے کہ اس کی عزت پر بھی کوئی حملہ نہیں کر سکتا تو اس کی عزت خطرہ میں ہوگی۔غرض کبھی اس لئے دھوکا لگ جاتا ہے کہ انسان سمجھتا ہے جب میں ایسا نہیں کرتا تو کوئی مجھے سے کیوں ایسا کرنے لگا۔اس طرح اس کی عزت اس کا مال اس کی حکومت اس کا دبدبہ اس کا رُعب اس کی جان اور جو چیز اسے پیاری اور عزیز ہوتی ہے وہ خطرہ میں ہوتی ہے۔بسا اوقات مومن بھی ایسا دھوکا کھا جاتا ہے چونکہ مومن ساری دنیا کا خیر خواہ ہوتا ہے اس لئے اپنے دل کی حالت پر ساری دنیا کی حالت کو قیاس کر لیتا ہے وہ سمجھتا ہے جس طرح میں سب کا خیر خواہ ہوں دوسرے لوگ بھی میرے خیر خواہ ہونگے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بعض اوقات اسے سخت نقصان اُٹھانا پڑتا ہے۔میں اپنی جماعت کے دوستوں کو آج کے خطبہ میں اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں ہماری جماعت ساری دنیا کی خیر خواہ ہے جب ہم مسلمان کہلانے والوں کی خیر خواہی کرتے ہیں تو اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ ہم دوسرے لوگوں کے خیر خواہ نہیں۔چونکہ مسلمانوں سے ہمارا زیادہ قریب کا تعلق ہے ملکی اور نیم مذہبی فوائد ان کے اور ہمارے متحد دمشترک ہیں مذہبی امور میں سے بھی بہت سے امور میں ہم اور وہ متحد ہیں صرف چند امور میں اختلاف ہے اس لئے ہم ان کے ساتھ ایک حد تک مل کر کام کرتے ہیں اور متحدہ امور میں قطعی طور پر مل کر کام کرتے ہیں کیونکہ ان