خطبات محمود (جلد 12) — Page 36
خطبات محمود سال ۱۹۲۹ء ہر احمدی دعوت الی اللہ کا عہد کرے فرموده ۸ - فروری ۱۹۲۹ء بمقام پھیر و چیچی) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: بہت سی غلطیاں انسان کو صحیح صورت حال کے نہ سمجھنے کی وجہ سے لگ جاتی ہیں۔ہمارے ملک میں ایک مثال مشہور ہے کہ جب بلی کبوتر پر حملہ کرنے لگتی ہے تو کبوتر آنکھیں بند کر لیتا ہے اور سمجھتا ہے جب مجھے بلی نظر نہیں آتی تو میں بلی کو کہاں نظر آتا ہوں گا اور وہ فرض کر لیتا ہے کہ اب بلی اس پر حملہ نہ کرے گی مگر اس کے اس فعل کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بلی اس پر حملہ کرتی ہے اور اسے کھا جاتی ہے۔اگر وہ اپنی آنکھیں بند نہ کرتا اور پیش آمدہ حالت کے متعلق غلط اندازہ نہ لگا تا تو پکڑا نہ جاتا کیونکہ وہ پرندہ ہے اور اُڑ کر بلی سے بچ سکتا ہے۔تو غلط اندازے بسا اوقات انسان کو کامیابی سے محروم کر دیتے ہیں۔کامیابی ہمیشہ صحیح اندازہ لگانے اور اس کے مطابق علم کرنے کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے۔بیسیوں دفعہ انسان کامیابی کے سرے پر پہنچ کر اس لئے رہ جاتا ہے کہ اس نے حالات کا غلط انداز ولگایا ہوتا ہے۔بسا اوقات کامیابی اس کے ہاتھ کی پہنچ میں ہوتی ہے مگر وہ خیال کر لیتا ہے کہ کامیابی بہت دور ہے اس لئے ہمت ہار بیٹھتا ہے۔اسی طرح بسا اوقات ہلاکت اس کے قریب آرہی ہوتی ہے مگر وہ سمجھتا ہے کہ میں محفوظ ہوں اس لئے ہلاکت سے پیچھے نہیں بنتا اور تباہ ہو جاتا ہے۔تو انسان کو کامیابی کے لئے نہ صرف صحیح کوشش کی ضرورت ہے بلکہ ان احوال کو بھی مد نظر رکھنے کی ضرورت ہے جن میں سے گذر رہا ہوتا ہے۔ہر عقلمند انسان کو ہمیشہ یہ بات یا درکھنی چاہئے کہ جن پہ تون پر وہ حالات کا اندازہ لگاتا ہے وہ