خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 38 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 38

خطبات محمود ۳۸ سال ۱۹۲۹ء باتوں میں ان کا فائدہ ہمارا فائدہ ہوتا ہے اور ان کا نقصان ہما را نقصان اس وجہ سے ان کے ساتھ مل کر کام کرنا ہمارے لئے ضروری ہوتا ہے۔ورنہ اس کے یہ معنی نہیں کہ ہم ہندوؤں کے دشمن ہیں یا عیسائیوں کے دشمن ہیں۔ہم ہندوؤں، سکھوں، یہودیوں، عیسائیوں حتی کہ دہریوں کے بھی خیر خواہ اور ہمدرد ہیں کیونکہ مسلمان کا فرض ہے کہ وہ سب کا خیر خواہ ہو۔میں تو یہ بھی کہوں گا کہ ہم نہ صرف دہریہ کے بلکہ بدترین چور ڈاکو اور بد کردار کے بھی خیر خواہ ہیں کہ سب رب العلمین کے بندے ہیں اور وہ اسی طرح چوروں اور ڈاکوؤں کا رب ہے جس طرح دوسرے لوگوں کا۔غرض ہم خدا تعالیٰ کے تمام بندوں کے خیر خواہ اور ہمدرد ہیں لیکن اس سے یہ سمجھنا کہ چونکہ ہم ساری دنیا کے خیر خواہ ہیں اس لئے دنیا بھی ہماری خیر خواہ ہے غلطی ہو گی۔اسی طرح یہ سمجھ لینا بھی غلطی ہو گی کہ جس طرح ہم دوسروں کی ترقی کے لئے کوشش کرتے ہیں وہ بھی ہماری ترقی کے رستہ میں روک نہ ہونگے کیونکہ ہم ان کے خیر خواہ ہیں اور اپنے عمل سے خیر خواہی ثابت کرتے ہیں مگر وہ ایسا نہیں کرتے ہم دنیا کو اور نگاہ سے دیکھتے ہیں اور دنیا ہمیں اور نگاہ سے دیکھتی ہے۔ہم تو دنیا کو اس نگاہ سے دیکھتے ہیں کہ دنیا کی تمام چیزیں ساری کی ساری انبیاء کی مملوک ہوتی ہیں کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے نائب ہوتے ہیں چونکہ سب چیزیں خدا تعالی کی ہیں اس لئے وہ خدا تعالیٰ کے نائبوں کی بھی ہیں۔اگر ان کا کوئی حصہ انبیاء سے بغاوت کرتا ہے تب بھی وہ یہی سمجھتے ہیں کہ آخر ہماری ہی ہیں ہمارے ہی پاس آئیں گی ان کو مٹانا نہیں چاہئے۔جیسے ایک عقلمند بادشاہ بغاوت کو دبانے کے لئے یہ کوشش کریگا کہ کم سے کم خونریزی ہو تا کہ اس کی رعا یا تباہ نہ ہو۔اسی طرح وہ لوگ جنہیں خدا تعالیٰ دنیا کا وارث کر دیتا ہے سوائے اس نقصان کے جس کا پہنچانا ضروری ہوتا ہے اور جولوگوں کی بھلائی کے لئے ہوتا ہے نقصان نہیں پہنچاتے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں یہ ہماری ہی ملک ہیں آخر ہمارے ہی پاس آئیں گے۔یہی وجہ تھی کہ جب طاعون رسول کریم ﷺ کی پیشگوئی اور خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئیوں کے مطابق ہندوستان میں ظاہر ہوئی اور لوگ کثرت سے مرنے لگے تو اس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دل بہت گڑھتا تھا۔مولوی عبدالکریم صاحب جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بیت الدعا کے قریب ہی رہا کرتے تھے فرماتے ہیں ایک دن مجھے اس طرح کراہنے کی آواز آئی جس طرح دردزہ والی عورت کراہتی ہے۔چونکہ وہ بالکل قریب سے آ رہی تھی میں نے معلوم کرنا