خطبات محمود (جلد 12) — Page 362
سال ۱۹۳۰ء ۳۶۲ خطبات محمود علیہ السلام کی بعثت کی ایک غرض یہ بھی تھی کہ پیشہ وروں کو ترقی دیں لیکن جو شخص اپنے پیشہ سے خود شرماتا ہو اُس کا پیشہ اس کے لئے ضرور ذلت کا موجب ہے۔ رسول کریم ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ ہم میں سے کون زیادہ معزز ہے آپ نے فرمایا وہی جو پہلے معزز تھا بشر طیکہ اس میں تقویٰ بھی ہوئے مسلمانوں میں بہت سے ایسے بزرگ ہوئے ہیں جن کے نام کے ساتھ ساتھ نمده روز یا روز یا جوتی بنانے والا کے القاب ہیں۔ اور ہم انہیں سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں ۔ کیونکہ انہوں نے تقوی سے ۔ اپنے پیشہ کو معزز کیا۔ انہوں نے اپنے پیشہ یا ذات کو چھپانے کی کوشش نہیں کی بلکہ اپنے نام کے ساتھ اس کا اظہار بھی کرتے رہے۔ تے رہے۔ لیکن جو شخص ا جو شخص اپنی ذات بدلتا ۔ بدلتا ہے اور اپنے لئے اور لقب تجویز کرتا ہے وہ خود اپنے پیشہ کو ذلیل سمجھتا ہے۔ اس لئے ہم بھی اسے ذلیل ہی سمجھیں گے ۔ صوفیا نے اپنے نام کے ساتھ ہمیشہ ایسے الفاظ کا استعمال کیا اور کبھی چھپانے کی کوشش نہیں کی۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ کوئی پیشہ اختیار کرنا عیب نہیں لیکن ایک ایسا انسان جو دوسروں کے پر چھین کر اپنے بازو پر لگانے کی کوشش کرتا ہے اور اپنی اصلیت کو چھپاتا ہے وہ خود اپنے آپ کو ذلیل سمجھتا ہے اور اس لئے وہ فی الواقعہ ہی ذلیل ہے ۔ تیرہ سو سال کے اندر وہ باتیں آج تک کسی کو نہیں سو جھیں جو ان جاہل اور ذلیل لوگوں کو سو بھی ہیں ہیں۔ ۔ اپنی جہالت اور نادانی ادانی کی وجہ سے یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بھی ایک حوالہ اپنی تائید میں پیش کرتے ہیں حالانکہ اس میں صرف یہ لکھا ہے کہ جس شخص پر الزام لگایا جائے وہ اگر مناسب سمجھے تو مباہلہ کرے یہ حق اسے دیا گیا ہے جس پر الزام لگایا جائے ۔ اور اگر اسے یہ حق نہ دیا جائے بلکہ الزام لگانے والے کو حاصل ہو تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ چوہڑے چمار روز اُٹھ کر شریف زادیوں پر حملے کریں اور پھر مباہلہ کا مطالبہ شروع کر دیں اس لئے یہ حق صرف اسی کو دیا گیا ہے جس پر الزام لگے تا اگر وہ دیکھے کہ الزام لگانے والا کوئی معقول آدمی ہے اور مباہلہ کرنے سے کچھ فائدہ ہے تو وہ ایسا کرے۔ اور اگر دیکھے کہ الزام لگانے والا کمینہ ذلیل اور بالکل لچر آدمی ہے تو نہ کرے۔ پس ہندوستان کے تمام ان لوگوں سے جو اس ا مطالبہ مطالبہ کے مؤید مطالبہ ہے کہ وہ اماموں یا ان کے شاگردوں اور اہل بیت یا ان کے شاگردوں میں سے کسی کے قول سے ثابت کر دیں کہ حدود کے متعلق الزام لگانے والے کو اختیار ہے کہ مباہلہ کا چیلنج دے اور میں ہر اس حوالہ کے لئے جو وہ پیش کریں گے سو روپیہ انعام دوں گا ۔ یہ مستری وغیرہ کہتے ہیں ید ہیں میرا XXXXXXXXXXXXX XXXXXXXXXXXXXXXXXX