خطبات محمود (جلد 12) — Page 363
خطبات محمود ۳۶۳ سال ہمیں احمدیوں نے بہت نقصان پہنچایا ہے اس لئے وہ اور ان کے تمام مؤیدین میرے اس مطالبہ کو پورا کر کے مجھے سے انعام لے سکتے اور اس نقصان کو پورا کر سکتے ہیں اور اگر دوسو حوالے تلاش کر لیں تو انہیں دس ہزار روپیل سکتا ہے جسے بعد میں وہ پھر میری مخالفت میں ہی خرچ کر سکتے ہیں۔لیکن اگر با وجود کوئی سند پیش نہ کر سکنے کے وہ اس نا معقول مطالبہ کوڈ ہراتے ہیں اور وہ لوگ بھی جن کو میں نے خلاف دیانت پرو پیگنڈا نہ کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے باز نہ آئیں تو خود ہی سوچ لیں کہ وہ کس طرح انسانیت کو داغدار کر رہے ہیں۔اگر اس عجز کے بعد وہ خاموش ہو جائیں تو یہ ان کی شرافت کی دلیل ہوگی لیکن اگر پھر بھی باز نہ آئیں تو ان کا معاملہ خدا کے ساتھ ہو گا لیکن وہ یہ ضرور یقین رکھیں کہ وہ الہی سزا سے بچ نہیں سکیں گے اور ضرور عذاب الہی میں گرفتار ہو کر رہیں گے اور اگر چہ اُس وقت ہم شرم سے انہیں یہ باتیں یاد نہ دلا سکیں لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ پکڑے ضرور جائیں گے۔اور میں سمجھتا ہوں اگر وہ اپنی فطرت پر غور کریں اور اپنی ماؤں، بہنوں، بیویوں اور بیٹیوں کی طرف نگاہیں دوڑائیں اور ان کی جو عزت ان کے دلوں میں ہے اس پر غور کریں تو ہمارے متعلق صحیح اندازہ لگا سکتے ہیں اور پھر ہم ان سے پوچھتے ہیں کیا ان کے ساتھ بھی یہی کھیل کھیلنا ان کے نزدیک جائز ہے؟ اگر وہ اعلان کر دیں کہ جائز ہے تو پھر میری طرف سے وہ معذور ہیں جتنی گالیاں چاہیں دے لیں۔وہ مباہلہ کا آخری پر چہ اُٹھا کر دیکھ لیں اور فرض کر لیں کہ یہ باتیں ان کے متعلق لکھی گئی ہیں اور میرے نام کی بجائے اپنا نام بدل کر اسے پڑھیں اور بتائیں اسے پڑھنے کے بعد وہ کیا یہ خیال کریں گے کہ ابھی جا کر اماں سے کہتا ہوں کہ مباہلہ کرو یا بیوی سے مقدمہ دائر کراتا ہوں۔اگر یہ خیال کریں گے تو یقینا وہ انسانیت سے نکلے ہوئے وجود ہیں ان سے میں شرافت کی کوئی امید نہیں رکھتا۔کیونکہ میں انسان سے ہی شرافت کی امید کر سکتا ہوں کسی دوسرے سے نہیں۔لیکن اگر اسے پڑھ کر میری طرح صبر کرنے اور خاموش ہو جانے کی بجائے لٹھ لے کر انہیں مارنے یا قلم لیکر انکے خلاف پُر جوش مضامین لکھنے پر تیار ہو جائیں تو میں ان سے کہوں گا کہ اس بات کو سوچ لیں کہ آخر ایک دن خدا تعالیٰ کے حضور پیش ہوتا ہے اور انسانیت کے متعلق وہاں جواب دینا ہے۔اس کے بعد میں ایک اور امر کی طرف دوستوں کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔اس شورش کے سلسلہ میں یہ لوگ جنہیں مظلوم کہنا ایسا ہی ہے جیسے قرآن کریم میں کافر کے متعلق ہے۔دُقَ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيم کے یعنی یہ جہنم کا عذاب چکھ کیونکہ تو