خطبات محمود (جلد 12) — Page 361
خطبات محمود سال ۱۹۳۰ء تمام علماء کو جھوٹا قرار دے رہے ہیں۔اگر وہ یہ عذر کریں کہ ایسے حوالے تلاش کرنے کے لئے وقت نہیں تو یہ بھی قابل پذیرائی نہیں۔مولوی ان دنوں چالیس چالیس اور پچاس پچاس روپیہ کی نوکریوں کے لئے خاک چھانتے پھر رہے ہیں اور میں تو ہر ایک نام کے لئے سو روپیہ دینے کا وعدہ کرتا ہوں اگر وہ سو نام بھی پیش کر دیں تو دس ہزار روپیہ لے سکتے ہیں اور اگر دس بھی مل جائیں تو ہزار روپیل سکتا ہے۔وہ مولوی جو پیسے پیسے کے لئے مر رہے ہیں ان کے لئے کتنا آسان ہے کہ میرے اس چلینج کو قبول کرلیں۔در حقیقت ان لوگوں کا ایک ایسی بات کی تصدیق کرنا جو ان کی فقہ میں کہیں بھی نہیں لکھی نہ صرف یہ کہ لکھی نہیں بلکہ اس کے خلاف لکھا ہے۔مثال کے طور پر حنفیوں کے ایک بڑے امام کی كتاب المبسُوط کو ہی دیکھ لیں کہ اس میں صاف الفاظ میں لکھا ہے کہ ایسی صورت میں قسم دینی بھی جائز نہیں۔کے پس یا تو یہ لوگ اس بات کا اقرار کر لیں کہ تیرہ سو سال میں جتنے علماء گذرے ہیں وہ سب نالائق تھے اور لائق صرف یہی لوگ پیدا ہوئے ہیں جو مجھ سے مباہلہ کا مطالبہ کر رہے ہیں۔اس صورت میں ماننا پڑے گا کہ امام ابو حنیفہ امام مالک اور دیگر ائمہ کو ماننے والے سب کے سب جاہل ہیں کیونکہ حق نَعُوذُ بِالله ان چاروں کو نصیب نہیں ہوا بلکہ تمام صحابہ اور اہلِ بیت کو بھی حق نصیب نہ ہوا اور صرف ان آتشبازوں، کمہاروں اور مستریوں کو آج یہ توفیق ملی کہ اس حقیقت کو معلوم کر سکیں۔پھر اس کے بعد انہیں حق حاصل ہو گا کہ ان لوگوں کی تائید کریں لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو آج نہیں تو کل دنیا یہ ضرور کہے گی کہ ان لوگوں نے میری مخالفت میں اندھے ہو کر اسلام پر تیر چلایا اور میر انہیں بلکہ اسلام کا نقصان کیا۔اس وقت ہزاروں علماء کہلانے والے ہندوستان میں موجود ہیں وہ ایسے حوالہ کی تلاش میں ایک ایک کتاب پڑھنے کیلئے آپس میں تقسیم کر لیں اور اگر ان کو کوئی حوالہ نہ بھی ملا تو بھی ان کے علم میں اضافہ ضرور ہو جائے گا جو بذات خود ایک انعام ہے اور اگر کوئی ایسا حوالہ مل گیا تو نقد انعام بھی میری طرف سے حاصل کر سکیں گے۔لیکن میں علی الاعلان کہتا ہوں کہ یہ لوگ ایسا کرنے کی ہرگز ہرگز جرات نہیں کریں گے کیونکہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو ایک آتشباز ایک کمہار اور ان مستریوں کے سوا آج تک کسی کو نہیں سو جھا۔میرے اس طرح پیشوں سے ان کا نام لینے سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ کوئی پیشہ بُرا ہے بلکہ ہم تو یہ مانتے ہیں اور قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود