خطبات محمود (جلد 12) — Page 344
خطبات محمود سال ۱۹۳۰ء اگر ان لوگوں میں شرافت کا کوئی ذرہ بھی ہوتا اور اگر یہ دور کی نسبت سے بھی انسان کہلانے کے مستحق ہوتے تو ایسے افعال ہرگز نہ کر سکتے کیونکہ کوئی شخص جس کی فطرت میں انسانیت کا کوئی کم سے کم شائبہ بھی موجود ہوا ایسے کمینہ جرم کا ارتکاب کبھی نہیں کر سکتا۔ یہ لوگ انسانیت سے بالکل عاری ہیں اور دنیا کا کوئی شریف النفس انسان ان لوگوں کو بلکہ ان سے تعلق رکھنے والوں اور ان کی پشت پناہ بننے والوں کو بھی شریف انسان نہیں سمجھ سکتا اس لئے ایسے لوگوں سے یہ امید ہی نہیں کی جاسکتی کہ اگر ان کو سمجھایا جائے کہ انسان بنو تو وہ مان جائیں گے۔ انسان وہی بن سکتا ہے جس کے اندر انسان بننے کی طاقت ہو ۔ ہم انسان کو یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ عالم بنو لیکن ایک بھینس یا گھوڑے یا گئے سے ایسی توقع فضول ہے ۔ انسان سے ہی یہ امید کی جاسکتی ہے کہ وہ ترقی کرے لیکن یہ انسانیت کے دائرہ سے خارج ہو چکے ہیں اس لئے ان کو سمجھانے سے کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا اور میں سمجھتا ہوں یہ طریق کسی کے ذہن میں بھی نہ ہو گا باقی دو طریق رہ جاتے ہیں ایک تو یہ کہ ایسے ہی طریق سے ان لوگوں کو سیدھا کیا جائے جو ایسے گندہ اور خبیث الفطرت لوگوں کا علاج ہے اور دوسرا ذریعہ قانونی کارروائی کرنا ہے۔ قانونی پہلو کے متعلق میں اپنی پوزیشن واضح کر دینا چاہتا ہوں ۔ گورنمنٹ کے قانون میں بعض ایسی دفعات موجود ہیں جن کے ماتحت ان لوگوں کے خلاف جو کسی جماعت کے مذہبی لیڈر کی ہتک کریں اور اس طرح اس جماعت کے ممبروں کو اشتعال دلائیں، گورنمنٹ خود قانونی کارروائی کر سکتی ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے وَاللَّهُ أَعْلَمُ کہاں تک سچ ہے کہ بوہرہ کمیونٹی کے لیڈر کی ہتک کرنے والوں کے خلاف ایک مقدمہ ہوا تھا اور آخر تک تمام عدالتوں نے تسلیم کیا کہ یہ مقدمہ اس دفعہ کے ماتحت آتا ہے۔ بوہرہ کمیونٹی تعداد کے لحاظ سے سیاسی عظمت کے لحاظ سے پھیلاؤ کے لحاظ سے گورنمنٹ کی خدمات کے لحاظ سے ہماری جماعت کے مقابلہ میں کچھ حیثیت نہیں رکھتی ۔ پھر بڑھنے کی طاقت اور قوت کے لحاظ سے تو وہ ہم سے بہت کم ہے۔ کیونکہ وہ ایک قومی مذہب ہے جس میں نئے لوگ شامل نہیں ہو سکتے ۔ پس اگر یہ صحیح ہے کہ گورنمنٹ نے اس موقع پر مقدمہ چلایا تھا تو کوئی وجہ نہیں کہ جماعت احمد یہ کے لئے گورنمنٹ ایسا نہ کر سکے جبکہ اس کے افراد یقینی طور پر جانتے ہیں کہ یہ سب کچھ محض فتنه انگیزی کے لئے کیا جا رہا ہے اور وہ اس فتنہ کی حقیقت سے ذاتی طور پر واقف ہیں۔ اب میں یا کوئی اور خلیفہ اگر ایک دفعہ عدالت میں چلا گیا تو ہمیشہ کے لئے قوم کا یہ حق مارا