خطبات محمود (جلد 12) — Page 345
خطبات محمود م سم سال ۱۹۳۰ء جائے گا۔یہ خیال غلط ہے کہ یہی لوگ ہمارے دشمن ہیں اور جب یہ فنا ہو جائیں گے تو مخالفت بھی مٹ جائے گی کیونکہ جب تک ہم تبلیغ کریں گے اور دوسروں کو کھاتے جائیں گے یا جب تک تربیت کا کام اپنے ہاتھ میں رکھیں گے ہمارے اندرونی اور بیرونی دشمن پیدا ہوتے رہیں گے۔جب تک ہم لوگوں کے گھروں پر روحانی چھاپے مارتے رہیں گے اور ان کے آدمیوں کو اب ساتھ ملاتے رہیں گے اُس وقت تک ہندو سکھ عیسائی، پارسی، یہودی، غیر احمدی غرضیکہ دنیا کی ساری قوموں میں سے جو شیلے اور اپنے نفس کو قابو میں نہ رکھ سکنے والے لوگ ہمارے دشمن ہوتے رہیں گے اور ایسے حالات کے پیدا ہونے کا احتمال ہمیشہ باقی رہے گا اس لئے اگر میں آج عدالت میں نالش کر دوں تو کل اگر اپنی ہی عورت پھر پیش آئے تو کہا جائے گا کہ یہ کوئی خاص بات نہیں تمہارا ایک خلیفہ عدالت میں جاچکا ہے اس لئے اب بھی خود دعویٰ کر دو اور جماعت کا یہ حق ہمیشہ کے لئے مارا جائے گا۔در حقیقت گورنمنٹ کی خاموشی احمد یہ جماعت کے صبر کی آزمائش ہے اور وہ دیکھ رہی ہے کہ احمد یہ جماعت اپنا یہ حق چھوڑتی ہے یا لے کر رہتی ہے۔پس یہ سوال ایک فرد کا سوال نہیں بلکہ جماعت کی عزت اور خلافت کے درجہ کے وقار کا سوال ہے۔پس یا تو جماعت اپنے اس حق کو چھوڑ کر ہمیشہ کے لئے اس تذلیل پر خوش ہو جائے یا پھر تیار ہو جائے کہ خواہ کوئی قربانی کرنی پڑے اس حق کو لے کر رہے گی۔اگر گورنمنٹ اس موقع پر خاموش رہے گی تو ہم مجبور ہوں گے کہ یہ سمجھ لیں کے چونکہ ایسے مواقع پر لوگ تلوار بھی اُٹھا لیتے ہیں۔آغا خانیوں میں سے بعض لوگ باغی ہو گئے تو سخت خونریزی ہوئی باغیوں کو جان سے مار دیا جاتا اور ہر مرنے والے کے سینہ سے ایک خط ملتا جس پر لکھا ہوتا کہ یہ ہے بغاوت کا نتیجہ اسی طرح بوہروں میں بھی فسادات ہوئے۔اگر گورنمنٹ یہاں بھی ایسے ہی نظاروں کا انتظار کرتی ہے تو یہ اس کی سخت سیاسی غلطی ہو گی۔گورنمنٹ کی مضبوطی اس میں ہے کہ وہ قانون کا ادب کرنے والوں کی حفاظت کرے اور اسے توڑنے والوں کا مقابلہ کرے ور نہ وہ حکام برطانیہ جو ایسے موقعوں پر فساد کے منتظر رہیں گے وہ اُس جاپانی کی تصدیق کریں گے جس نے چند سال ہوئے ایک مضمون لکھا تھا کہ جب ہم لوگ یورپ کے دوسرے ممالک میں گئے اور لوگوں نے ہمارے حالات دیکھے تو سب تو میں کہنے لگیں یہ لوگ غیر مہذب ہیں۔ہم نے خیال کیا معلوم نہیں کون سی چیز ہے جو ہمیں غیر مہذب بناتی ہے۔ہم نے سمجھا شاید ہمارے لباس