خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 343 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 343

خطبات محمود ۳۳ ۴۵ سال ۱۹۳۰ء فتنہ انگیزوں کے متعلق گورنمنٹ کی خاموشی (فرموده ۴۔اپریل ۱۹۳۰ء) تشہد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: مجھے اس ہفتہ میں متواتر اور کثرت سے دوستوں کے خطوط آتے رہے ہیں۔آج بھی آئے ہیں اور میں سمجھتا ہوں ابھی اور بھی کچھ دنوں تک آئیں گے جو اس امر کے متعلق ہیں کہ وہ شرارتی لوگ جو اپنے خبث باطن کو ایسے رنگ میں ظاہر کر رہے ہیں کہ جس کی مثال جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے شاید ہی چند سیاہ باطن لوگوں کے سوا کہیں ملتی ہو ان کا علاج کیوں نہیں کیا جاتا۔بعض خط لکھنے والے دوست جوش کے اظہار میں بہت تیز ہیں بعض مجھ پر حیرت کا اظہار کر رہے ہیں کہ میں اس قدر وسعت حوصلہ کس طرح دکھا رہا ہوں جبکہ ہم جو دوسرے مخاطب ہیں اس کی برداشت نہیں کر سکتے۔پھر بعض ایسے ایسے دوستوں کی طرف سے خطوط آئے ہیں جن کی طبیعت کی نرمی اور جن کے مزاج کی سردی کو میں انتہائی درجہ کا سمجھتا تھا ان میں سے بعض کے خطوط ایسی کچی تکلیف اور ایسے بے محابا اظہار درد پر مشتمل ہیں کہ باوجود یکہ وہ مجھ سے اظہار ہمدردی کر رہے ہیں لیکن ان کی تکلیف کے خیال سے میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔میں ان دوستوں کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ ایسے بدطینت لوگوں کا منہ بند کرنے کے دنیوی لحاظ سے دو ہی ذرائع ہیں ایک قانون کے ذریعہ اور دوسرے اسی ذریعہ سے جو انہوں نے اختیار کر رکھا ہے۔یعنی جس طرح وہ قانون شکنی کر رہے ہیں ہم میں سے بھی بعض قانون شکنی پر آمادہ ہو جائیں اس کے ہوا تیسرا کوئی ذریعہ مجھے نظر نہیں آتا۔