خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 324 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 324

خطبات محمود ۳۲۴ سال ۱۹۳۰ء ہر روز گھر سے ناراض ہو کر چلا جاتا اس کے رشتہ دار روز اسے منا کر لاتے۔آخر جب تنگ آگئے تو انہوں نے کہہ دیا کہ اب ہم منانے نہیں جائیں گے خواہ آئے یا نہ آئے۔ایک دن جب وہ ناراض ہو کر گیا تو اس نے شام تک انتظار کیا کہ کوئی لینے آئے گا لیکن کوئی نہ آیا۔جب بھوک نے اسے تنگ کرنا شروع کیا تو اس نے بیل کھول دیا۔بیل چونکہ گھر کا راستہ جانتا تھا اس لئے گھر کی طرف چل پڑا۔دھوبی نے اُس کی دُم پکڑ لی اور پیچھے پیچھے چل دیا اور ساتھ کہتا جاتا جانے بھی دے میں نے جو کہا گھر نہیں جاؤں گا تو کیوں خواہ مخواہ مجھے زبر دستی لئے جا رہا ہے اور اسی طرح گھر چلا گیا اور جا کر کہنے لگا میں نے آنا تو نہیں تھا لیکن یہ بیل کھینچ لایا۔تو لاکھوں انسان ہیں جو چاہتے ہیں کہ کوئی ان کے لئے بیل کی دُم بن جائے کیونکہ وہ شرمندہ ہیں کہ اب کیا کہہ کر جائیں۔مجھے اپنا ایک رؤیا یاد ہے میری عمر دس گیارہ سال کی تھی بازار احمدیہ کی دُکانیں ابھی نہ بنی تھیں اور مدرسہ احمدیہ بھی نہیں تھا اس جگہ ایک چبوترہ تھا۔شاید بعض عمارتیں بھی بنی ہوں۔لوگ یہاں کبڈی کھیلا کرتے تھے میری اُس وقت اتنی عمر تو نہ تھی کہ کبڈی میں شامل ہو سکوں۔مگر دیکھنے چلا جاتا تھا اور بعض اوقات میرا دل رکھنے کے لئے مجھے بھی شامل کر کے دُور کھڑا کر دیا کرتے تھے۔میں نے اُس زمانہ میں خواب دیکھا کہ کبڈی ہو رہی ہے ایک طرف غیر احمدی ہیں اور دوسری طرف احمدی اور کبڈی وہ ہے جسے پنجابی میں چھل کہتے ہیں۔غیر احمدیوں کا جو آدمی آتا ہے احمدی اسے پکڑ کر اپنی طرف ہی رکھ لیتے ہیں حتی کہ صرف مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی ہی رہ گئے۔آخر وہ بھی ایک دیوار سے لگ کر ایک کونے کی طرف کھسکنے لگے اور ہمارے قریب آ کر کہنے لگے کہ اچھا اب میں بھی ادھر ہی آ جاتا ہوں۔اور رویا میں بعض اوقات افراد سے مراد جماعت ہوتی ہے۔اگر چہ مولوی محمد حسین صاحب کو ظا ہر اہدایت نہیں ہوئی مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی سے معلوم ہوتا ہے کہ آخر وقت میں ان کو حقیقت معلوم ہو گئی تھی۔چنانچہ وہ جماعت کے لوگوں سے ملنے لگ گئے تھے پیغام وغیرہ بھی بھیجتے رہتے تھے اور ایک دفعہ مجھے بٹالہ میں ملے بھی اور کہتے تھے آپ سے تخلیہ مٹھی باتیں کرنی ہیں۔اس رویا میں مولوی محمد حسین سے مراد دراصل ان کی سی طبائع والے لوگ ہیں کہ آخر وہ بھی احمدیت میں داخل ہوں گے لیکن ہمارا فرض ہے کہ انہیں احمدیت میں لانے کی کوشش کریں۔میں نے جلسہ پر اعلان کیا تھا کہ دوست وعدہ کریں اور اپنے نام لکھا ئیں کہ سال میں کم از کم ایک احمدی