خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 325 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 325

خطبات محمود ۳۲۵ سال ۱۹۳۰ بنائیں گے۔وعدہ کرنا بھی مفید ہوتا ہے کیونکہ آدمی کو اس کا خیال رہتا ہے کہ مجھے اس کے متعلق پوچھا جائے گا اور اسے اس کا پاس ہوتا ہے۔مگر بہت تھوڑے لوگوں نے وعدے لکھوائے ہیں خصوصاً بڑے بڑے شہروں نے کوئی حصہ نہیں لیا سیالکوٹ امرتسر، فیروز پور گجرات، جہلم، پشاور لاہور دہلی ملتان کراچی وغیرہ مقامات کے لوگوں نے بہت کم توجہ کی ہے۔کراچی کا وعدہ تو شاید آیا ہے مگر عام طور پر بہت کم لوگوں نے نام لکھوائے ہیں۔پھر زیادہ تعلیم یافتہ اور با اثر لوگوں نے بالکل توجہ نہیں کی حالانکہ جب تک سب چھوٹے بڑے اس کام میں نہ لگ جائیں پوری کامیابی نہیں ہو سکتی۔حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کی مجلس میں جب آپ کی طبیعت خراب ہوتی تو آپ فرماتے لوگ اس وقت چلے جائیں اس پر کچھ چلے جاتے اور کچھ بیٹھے رہتے۔پھر آپ فرماتے باقی لوگ بھی چلے جائیں اس پر پھر کچھ چلے جاتے اور کچھ بیٹھے رہتے۔آخر آپ فرماتے نمبر دار جائیں۔تو بعض اوقات بعض لوگ سمجھتے ہیں ہم مخاطب نہیں۔حالانکہ جیسی بیعت دوسرے لوگوں نے کی ہوئی ہے ویسی ہی ان نمبرداروں نے کی ہوتی ہے اور سب کے لئے اپنے اپنے عہد کی پابندی لازمی ہے پھر کیا وجہ ہے کہ نمبر دار اپنے آپ کو مستثنی سمجھیں۔پس میں امید کرتا ہوں کہ جماعت کے سارے دوست اس طرف توجہ کریں گے۔چونکہ کسی کام کے لئے حکم دینے پر نگرانی کے لئے انتظام کرنا پڑتا ہے اس لئے میں حکم تو نہیں دیتا مگر پھر بھی میری آواز پر توجہ کرنا ضروری ہے۔کیا سب کام میر احکم ہونے پر ہی کئے جاتے ہیں۔یہاں سرکس آیا بہت لوگ دیکھنے کے لئے گئے اور کوئی ایک بھی اس کے لئے مجھ سے حکم لینے کے لئے نہ آیا پھر کیا وجہ ہے کہ دین کے کام میں حکم کی آڑ لی جائے۔اگر اپنے شوق سے کام کیا جائے تو سارا ثواب اپنے آپ کو حاصل ہوتا ہے لیکن حکم میں دوسرا بھی ثواب میں شریک ہو جاتا ہے۔اگر جماعت اس طرف توجہ کرے تو بہت جلد ترقی کے سامان پیدا ہو سکتے ہیں۔میں نے اشتہاروں کا سلسلہ بھی اسی لئے جاری کیا ہے کہ دوستوں کو تبلیغ کے لئے میدان مل جائے اور قریباً ایک مہینہ کے بعد اس کا اثر بھی معلوم ہونا شروع ہو گیا ہے۔ایک شخص نے تو اشتہار پڑھ کر بیعت کا خط بھی بھیجا ہے بعض نے سوالات لکھ کر بھیجے ہیں اور بعض مقامات سے جو خطوط آ رہے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں بیداری پیدا ہو رہی ہے اور میں نے اسی غرض سے یہ سلسلہ شروع کیا تھا تا کہ شور پڑ جائے۔دوسری بات جس کے متعلق میں بیان کرنا چاہتا ہوں وہ چندوں کی کمی ہے۔اس کے