خطبات محمود (جلد 12) — Page 23
خطبات محمود ۲۳ سال ۱۹۲۹ء بھی وہاں ایسی حکومت قائم کر لے گا جو سارے افغانستان پر حاوی ہوگی، بالکل آزاد ہو گی، کسی دوسری سلطنت کے ماتحت نہ ہو گئی، ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لئے کوشش کرے گی اس کے ہم ایسے ہی خیر خواہ ہوں گے جیسے اُن اسلامی حکومتوں کے ہیں جو اپنے ممالک میں مسلمانوں کی ترقی کی کوشش کر رہی ہیں۔پس ہمارے آئندہ کے متعلق احساسات یہ ہیں کہ وہاں ایسی حکومت قائم ہو جو بالکل آزاد ہو۔وہ نہ انگریزوں کے ماتحت ہو نہ روسیوں کے نہ کسی اور کے۔ہم اسے بھی پسند نہیں کرتے کہ افغانستان ایک دفعہ کامل آزادی حاصل کرنے کے بعد تھوڑا بہت ہی انگریزوں کے ماتحت ہو۔ہم اُسے اس طرح دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ آزاد ہو۔مضبوط ہو ٹکڑے ٹکڑے نہ ہو اور نہ کسی کے ماتحت یا زیر اثر ہو۔اگر وہاں ایسی حکومت قائم ہو جائے تو حکمران خواہ کوئی ہو ایسی حکومت اسلام کے لئے مفید ہو گی۔اس کے لئے ہماری طرف سے جو ایڈریس گورنر صاحب پنجاب کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے اس میں بھی ہم نے اس مسئلہ کو اٹھایا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ ہم اسے سخت نا پسند کرتے ہیں کہ افغانستان کے معاملات میں کسی قسم کا دخل دیا جائے اور ہم امید رکھتے ہیں گورنمنٹ اس بات کی احتیاط کرے گی کہ افغانستان کے اندرونی معاملات میں ہرگز مداخلت نہ کی جائے اور جیسے وہ پہلے آزاد تھا ویسے ہی اب بھی رہے۔میرے نزدیک مسلمانوں کو صرف اس بات کی ضرورت ہے اور مسلمانوں کی تمام جماعتوں اور انجمنوں کو بالاتفاق پورے زور کے ساتھ یہ اعلان کر دینا چاہئے کہ ہم اسے سخت نا پسند کرتے ہیں کہ افغانستان کے فسادات کے نتیجہ میں کوئی غیر قوم خواہ وہ انگریز ہی ہوں اس ملک پر کسی قسم کا تصرف کرے۔افغانستان اسی طرح آزاد ہونا چاہئے جیسے پہلے تھا۔چاہے کوئی بادشاہ ہو امان اللہ خان ہو یا عنایت اللہ خان نادر خاں یا علی احمد جان یا بچہ سقہ یا کوئی اور بچہ ہو بہر حال افغانستان آزاد رہے تا کہ تمام مسلمانوں کی سیاسی طاقت کو جو پہلے ہی بہت کمزور ہے مزید نقصان نہ پہنچے۔یہ بات ہے جس کی اس وقت مسلمانوں کو ضرورت ہے ڈراوبے اور دھمکیاں دینا یا یہ کہنا کہ ہم یوں کر دیں گے فضول ہے اور اس سے کچھ فائدہ نہیں ہو سکتا۔بالا تفاق سنی، شیعہ احمدی، وہابی وغیرہ سب کو ملکر یہ آواز بلند کرنی چاہئے اور اعلان کر دینا چاہئے کہ ہمیں یہ خطرہ ہے کہ کوئی غیر قوم کا بل کو اپنے اقتدار کے نیچے لانے کی کوشش کریگی ہم اسے نفرت کی نگاہ سے دیکھیں گے اور بُراسمجھیں گے۔باقی یہ کہ ہم کیا کریں گے ہم نے کیا کرنا ہے جب خدا تعالیٰ تغیرات پیدا کر دیگا تو جو کچھ کر سکتے