خطبات محمود (جلد 12) — Page 22
خطبات محمود ۲۲ سال ۱۹۲۹ء غرض اصل یہ ہے کہ جب تک کوئی قوم شریعت اسلامی کے مطابق عمل کر کے اپنے آپ کو بغاوت سے بُری نہیں کر لیتی اُس وقت تک حکومت کے خلاف کھڑے ہونے کی وجہ سے باغی ہے اور اُس وقت تک باغی ہے جب تک حکومت اس کے ہاتھ میں نہیں آ جاتی۔جس کی دو ہی صورتیں ہیں۔یا تو یہ کہ بادشاہ اپنے حق سے دست بردار ہو جائے اور اطاعت قبول کر لے۔یا پھر اس ملک کو چھوڑ کر چلا جائے۔ورنہ یوں تو سب نے ہی بغاوت کر کے حکومتیں حاصل کی ہوتی ہیں۔پہلے پہل ترکوں نے بھی بغاوت سے ہی حکومت حاصل کی تھی۔بنو امیہ نے بھی بغاوت سے ہی حکومت کی تھی۔غرض جب تک بغاوت جاری رہے اُس وقت تک اس کی حمایت یا اطاعت نا جائز ہوتی ہے لیکن جب حکومت قائم ہو جائے تو پھر خدا تعالیٰ کا حکم یہی ہے کہ اُس کی اطاعت کرو تا فساد دور ہو اور امن قائم ہو۔پس اس اصل کے ماتحت ہمارے نزدیک بچہ سقہ ہو یا کوئی اور بغاوت کرنے میں غلطی پر ہے۔لیکن اگر وہ یہ ثابت کر دے کہ وہ ملک چھوڑ کر نکل جانا چاہتے تھے مگر انہیں نہ جانے پر مجبور کیا گیا تو ایسی حالت میں ان کا مقابلہ کے لئے کھڑا ہونا جائز ہوگا۔لیکن چونکہ ہمارے پاس اس قسم کے حالات نہیں پہنچے کہ انہوں نے ایسا کیا اس لئے ہم انہیں باغی سمجھتے ہیں اور ہمارے نزدیک وہ غلطی پر ہیں۔غرض آئندہ کے متعلق ہمارا مسلک یہی ہے کہ ہمیں کسی خاص شخص سے کوئی تعلق نہیں ہے جو بھی حکومت کسی ملک میں قائم ہو اُس کی اطاعت فرض اور اس سے بغاوت گناہ ہے ہم نے عام فائدہ اسلام کا دیکھنا ہے۔میرے نزدیک سیاسی لحاظ سے اسلام کو ( حقیقی اسلام کو نہیں کیونکہ وہ تو خود اپنی ذات سے قائم ہے اور اسے اپنے قیام کے لئے کسی ایسے سہارے کی ضرورت نہیں ) ہاں سیاسی لحاظ سے اسلام کو ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام اسلامی ممالک میں زبر دست آزاد اور مضبوط حکومتیں ہوں یہی وجہ تھی کہ باوجود اس کے کہ شریف حسین کے زمانہ میں ہم اس کی حکومت کو جائز سمجھتے اور اس کے خلاف بغاوت کو نا جائز قرار دیتے تھے لیکن جب سلطان ابن سعود نے پوری طرح وہاں اپنا تسلط جمالیا اور اس کی حکومت قائم ہو گئی تو اب ہم اس کو جائز سمجھتے اور اس کے خلافت بغاوت کو نا جائز قرار دیتے ہیں۔اب اگر شریف بھی اس پر حملہ کرے گا تو ہمیں بُرا لگے گا۔اسی لئے ہم بچہ سقہ کو بھی بُرا سمجھتے ہیں کہ اُس نے ایک آزاد اسلامی حکومت کو ضعف پہنچایا۔جب تک وہ خود وہاں حکومت قائم نہ کر لے ہم اسے بُرا ہی کہیں گے اب وہاں خواہ کوئی بادشاہ ہو جائے۔امان اللہ خاں ہو یا عنایت اللہ خان نادر خاں ہو یا علی احمد جان یا بچہ سقہ جو