خطبات محمود (جلد 12) — Page 147
خطبات محمود جانتا استاد کا کیا مرتبہ ہے۔ سال ۱۹۲۹ء بچپن میں ہی میں امرتسر گیا ۔ وہاں خالصہ کالج کے طلباء سے جو بہت مضبوط تھے اور ہمیشہ کھیل میں جیتے تھے ہمارے سکول کے لڑکے کھیلنے گئے اس میچ کی تقریب پر میں گیا۔ جب مقابلہ ہوا تو ہمارے اسکول کے لڑکے جیت گئے ۔ وہ ہماری جماعت کے ابتدائی ایام تھے اور ان دنوں احمد یوں کے خلاف خوب کفر کے فتوے لگائے جاتے تھے ۔ مگر اس میچ میں ہمارے لڑکوں کی جیت پر مسلمان کفر کے فتوے بھول گئے اور اس خوشی میں ہمیں ٹی پارٹی دی اور اس ۔ دی اور اس موقع پر مجھ سے درخواست کی کہ کچھ بیان کروں۔ میں نے سورۃ فاتحہ پڑھی مگر کوئی بات ذہن میں نہ تھی اس لئے پسینہ پسینہ ہو گیا۔ میں نے خیال کیا اپنے ساتھیوں کو میں اپنی رؤیا کئی بار سنا چکا ہوں آج اگر میں نے انہیں نئی تفسیر نہ سنائی تو یہ کیا کہیں گے ۔ اُس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھے جو تفسیر بجھائی وہ تیرہ سو سال میں کسی کو نہیں سوجھی ۔ گوشریعت اسلامیہ اب دنیا کے قیام تک بدل نہیں سکتی کسی نبی اور ولی کی طاقت نہیں کہ قرآن کریم کی ایک زیر کی جگہ زبر کر دے تا ہم قرآن کریم چونکہ ہر زمانے کے لئے ہے اس لئے اس کے حقائق و معارف ہمیشہ خدا تعالیٰ کے بندوں پر کھلتے رہیں پر گھلتے رہیں گے اور جب تک دنیا قائم ہے یہ سلسلہ ختم نہیں ہوگا ۔ سے مقابلہ ہوا ۔ وہ تفسیر جو مجھے اُس وقت سجھائی گئی اور جسے میں نے اُس وقت بیان کیا یہ تھی کہ سورۃ فاتحہ میں غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ " کی دعا سکھائی گئی ہے یعنی یہ کہ ہم یہودی یا عیسائی نہ بن جائیں اس دعا کا مقصد و مدعا کیا ہے ۔ سورۃ فاتحہ دو دفعہ نازل ہوئی ہے ۔ پہلی دفعہ مکہ میں اور دوسری دفعہ مدینہ میں ۔ مکہ میں مشرکین رہتے تھے ابو جہل، عتبہ شیبہ وغیرہ اور انہی یہود و نصاری نہ مکہ میں تھے اور نہ ان سے مقابلہ ہوا ۔ مدینہ میں جا کر یہود سے مقابلہ رہا۔ نصاری سے صرف دو سال قبل وفات آنحضرت سے مقابلہ ہوا ۔ ایسی صورت میں کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ وہ سورۃ جو مکہ میں نازل ہوئی اس میں یہ دعا تو سکھلائی کہ ہم یہودی یا نصاری نہ بن جائیں جن کا وہاں نام و نشان ؟ و نشان بھی نہ پایا جاتا اتا تھا اور یہ دعا نہ تھ نہ سکھلائی کہ ہم مشرک نہ ہو جائیں ۔ وہ لوگ جو ہر وقت مسلمانوں کے سامنے شرک کے گند میں مسلطح رہتے تھے ہر وقت ان کے درپے آزار رہتے طرح طرح کے مظالم اُن پر ڈھاتے دکھ پر دکھ پہنچاتے قیاس تو چاہتا ہے اُس وقت یہ دعا سکھائی جاتی کہ ہم مشرک نہ ہو جائیں مگر جو دعا سکا جو دعا سکھائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ ہم یہو دیا یہود یا نصاری نہ ہو جائیں ۔ XXXXXXXXXX