خطبات محمود (جلد 12) — Page 148
خطبات محمود ۱۴۸ سال ۱۹۲۹ء اس میں خدا تعالیٰ کی کیا حکمت تھی ؟ اللہ تعالیٰ نے اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے ابتدائی ایام میں اپنے رسول کی معرفت پیشگوئی فرما دی تھی کہ مشرکوں کے بت خانے بالکل مٹ جائیں گے اور ان کا نام ونشان باقی نہ رہے گا۔یہ بات اُس وقت ظاہر فرمائی جب کہ مشرکوں کا بہت زور تھا ان کے بت خانے بہوں سے بھرے پڑے تھے اور بظاہر کوئی صورت نہ تھی جس سے سمجھا جائے کہ یہ دنیا سے مٹ جائیں گے مگر خدا تعالیٰ نے اپنے رسول کی معرفت یہ مُنادی کرا دی۔یہی وجہ تھی کہ سورۃ فاتحہ میں مشرک نہ بننے کی دعا سکھلائی گئی کیونکہ شرک کا وجود تو خطہ عرب سے مٹ جانا تھا۔ہاں یہ دعا سکھلائی کہ ہم یہود و نصاری نہ ہو جائیں کیونکہ ان قوموں نے دنیا میں ترقی کرنی تھی اور بیجوں نے ان کی وجہ سے گمراہی میں پڑتا تھا۔یہود کو ہلاک کرنے کیلئے کوششیں بھی کی گئیں مگر یہ قوم پھر بھی موجود ہے اور اتنی مالدار ہے کہ تمام حکومتیں اس کی مقروض رہتی ہیں، انگریز بھی اس کے مقروض ہیں۔روس بھی اس کا مقروض ہے اور باوجود اس کے تمام اس کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔جب کبھی اس کا ذکر آئے گا تو حقارت کا اظہار کیا جائے گا اور جب اس کی وجہ پوچھی جائے تو کہیں گے یہودیوں نے ہمارے ملک کو مقروض بنا رکھا ہے اور نصاری کی ترقی تو سب پر ظاہر ہی ہے۔غرض یہ سورۃ فاتحہ بظاہر مختصر سورۃ ہے مگر اس میں مسلمانوں پر اتمام حجت کر دی گئی ہے اور کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں اس کے مضامین سے نا واقف رہا کیونکہ نماز ہر مسلمان پر فرض ہے اور نماز میں سورۃ فاتحہ کا پڑھنا ضروری قرار دیا گیا ہے بلکہ نہ پڑھنے والے کے متعلق آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ اس کی نماز پورے طور پر نہیں ہوتی اور اس کا یاد کرنا ایسا آسان ہے کہ ایک معمولی سے معمولی سمجھ کا انسان بھی آسانی سے اسے حفظ کر سکتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بظا ہر سورۃ فاتحہ میں خاص مضامین معلوم نہیں ہوتے مگر مخفی طور پر یہ سورۃ قرآن کر کے سب مضامین پر مشتمل ہے بلکہ میرا تو یہ مذہب ہے کہ اس چھوٹی سی سورۃ میں سب مذاہب باطلہ کا رڈ موجود ہے۔چار صفات الہیہ کا جو اس میں ذکر ہے انہیں سے غیر مذاہب کی تردید ہوتی ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ تمام سلوک کے رستوں کا ذکر اس میں کیا گیا ہے اور یہ بھی کہ پہلا درجہ کونسا ہے اور دوسرا کونسا۔ایک اور تعلیم جو اس میں مذکور ہے وہ یہ ہے کہ صرف نام رکھ لینے سے کچھ نہیں بنتا جب تک کہ عمل بھی ساتھ نہ ہو۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم بھی یہی