خطبات محمود (جلد 12) — Page 146
خطبات محمود سال ۱۹۲۹ء سات دن میں پڑھنا پسندیدہ ہے پس گو ایک شخص ایک ہی دن میں سارے قرآن کو ختم کر سکتا تھا مگر اس سے منع فرما کر یہ کر دیا ہے کہ سورۃ فاتحہ میں قرآن کریم کے سب مضامین اجمالاً بیان کر دیئے تا کہ جو شخص قرآن کو پڑھ کر اس کے مضامین سے آگاہی حاصل کرنا چاہے وہ سورۃ فاتحہ کو پڑھ کر مجملا اس کے مضامین سے واقف ہو جائے اور اس طرح اس کی خواہش پوری ہو جائے۔بچپن کا ایک خواب مجھے اب تک یاد ہے۔اس میں میں نے ایک ٹن کی آواز سنی جیسے کٹورے پر کوئی چیز مارنے سے آواز نکلتی ہے۔آنحضرت ﷺ نے بھی وحی کی آواز کو صرف جرس ( گھنٹی کی آواز ) کے ساتھ تشبیہ دی ہے یعنی جب وحی ہونے لگتی تو پہلے گھنٹی کی آواز معلوم دیتی پھر اس میں سے کلام پیدا ہونا شروع ہو جاتا۔میں نے دیکھا وہ ٹن کی آواز پھیلنے لگی حتی کہ مجسم ہو کر ایک میدان بن گیا تب اس میں ایک چیز نظر آنے لگی پھر آہستہ آہستہ اس کے اعضاء کان، آنکھ وغیرہ بن گئے اور وہ تصویر سی ہو گئی۔پھر میں نے سمجھا یہ فرشتہ ہے اور اس میں حرکت پیدا ہوگئی۔اس نے مجھے مخاطب کر کے کہا کیا میں تمہیں سورۃ فاتحہ کی تفسیر سکھاؤں؟ میں نے کہا سورۃ فاتحہ کی تفسیر میں تو بہت لکھی گئی ہیں۔اس نے جواب میں کہا جس قدر مفسروں نے تفسیریں لکھی ہیں وہ اهدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ تک رہے ہیں آگے نہیں بڑھے۔اگر چہ مفترین نے اگلے حصے کی بھی تفسیریں لکھی ہیں بلکہ سارے قرآن کی تفسیریں لکھی ہیں مگر اُس وقت میں بھی یہی سمجھتا ہوں کہ واقعی مفسرین نے اس آیت سے آگے تفسیریں نہیں لکھیں تب اس فرشتہ نے مجھے سورۃ فاتحہ کی کئی تفسیرمیں سکھائیں۔صبح ہونے تک ان میں سے صرف ایک تفسیر مجھے یادر ہی مگر وہ بھی بعد میں بھول گئی۔یہ خواب میں نے حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کو سنایا تو آپ نے پیار سے فرمایا میاں ! فرشتہ کی بتائی ہوئی ایک تفسیر تو یا در کھتے۔اس کے بعد جب کبھی میں نے سورۃ فاتحہ کی تفسیر کی نئے سے نئے مضامین سو مجھے۔خواب میں جو یہ دکھایا گیا تھا کہ پہلے مفسرین صرف اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِمَ تک پہنچے ہیں آگے نہیں اس پر جب میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ اگلے حصے کی تفسیر بیان کرنا خدا ہی کا فعل ہے کیونکہ انعام غضب ضلالت کی حقیقی کیفیات خدا تعالی ہی بیان کر سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ ان مقامات پر پہنچے ہوئے سالک کا درجہ دوسرے کو معلوم نہیں ہوتا۔سید عبد القادر صاحب جیلانی " فرماتے ہیں کوئی وقت ایسا بھی آتا ہے کہ سالک کے تعلقات خدا تعالیٰ سے ایسے ہوتے ہیں کہ استاد نہیں جانتا شاگرد کا کیا مرتبہ ہے اور شاگرد نہیں۔