خطبات محمود (جلد 12) — Page 137
خطبات محمود سال ۱۹۲۹ء سب ملک فتح ہو کر مسلمانوں کے قبضہ میں آ جائیں گے اکثر مسلمانوں کا یہی خیال ہے۔آج اس بھروسہ کی وجہ سے مسلمانوں کا حال دیکھو کیا ہو گیا۔ایک وقت تھا جب مسلمان ساری دنیا کے بادشاہ تھے۔آج انگریزوں کی طاقت بڑی سمجھی جاتی ہے حالانکہ یہ اس کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں۔اُس وقت دنیا کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک مسلمانوں کی حکومت تھی۔بعد میں جب پھر دو حکومتیں ہو گئیں تو ایک کا صدر مقام بغداد تھا اور دوسری کا سپین۔مگر آج مسلمانوں نے چونکہ خود کام کرنا چھوڑ دیا ہے اس لئے قوت عملیہ جاتی رہی اور وہ ہر لحاظ سے گر گئے۔ایک دفعہ میں لاہور میں مشن کالج کے پاس سے گزرا۔اُس وقت میاں محمد شریف صاحب ای۔اے سی اور چوہدری فتح محمد صاحب سیال جو آج کل صیغہ دعوت و تبلیغ کے ناظر ہیں میرے ساتھ تھے ایک طالب علم جو انگریزی طرز کا لباس پہنے ہوئے تھا مشن کالج سے نکلا دروازے کے سامنے ذرا سی دیر ٹھہرا اور مشن کالج کی عمارت کو دیکھ کر سر ہلا کر بولا۔مسیح آئے گا تو سب کچھ ہمارے ہی قبضہ میں آ جائے گا۔یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں نے حضرت نبی کریم ﷺ کی ہتک کی اور کہا حضرت عیسی آسمانوں پر زندہ موجود ہیں مگر رسول کریم نے زمین میں مدفون ہیں اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ نے بھی کہا تم نے میرے رسول کی بنک کی اور اسے نیچے رکھا تم بھی نیچے رہو گے اور عیسی کو جس کو تم نے اوپر چڑھایا اس کی قوم یعنی عیسائی تمہارے اوپر رہیں گے۔ہندو جب حکام کو ملنے جاتے ہیں تو وہاں جا کر دوسرے کے لئے سفارش کرتے ہیں اور کہتے ہیں فلاں کے لئے یہ کر دیگر مسلمان جب جائیں گے اپنے لئے ہی مانگیں گے۔اس وجہ سے حکام کے دلوں میں انکی بے قدرتی ہو جاتی ہے ہر مسلمان سب کچھ اپنے لئے مخصوص کر لینا چاہتا ہے۔مگر ہند و چونکہ قوم کی ہمدردی اپنے دل میں رکھتا ہے اور دوسروں کے مفاد کے لئے کوشش کرتا ہے اس لئے حاکم پر اچھا اثر پڑتا ہے اور اسکی طرف زیادہ متوجہ ہو کر اس کا کام کرتا ہے۔مسلمان کی حتی الوسع یہ کوشش ہو گی کہ دوسرا مسلمان ذلیل ہومگر ہندو دوسرے ہندو کی ترقی اور بہتری کا خواہاں ہوگا۔عیسائی قوموں کو دیکھیں۔ان کے مشنری اپنے ملکوں سے کس قدر دور دراز فاصلہ پڑ چلے جاتے اور ہسپتال کھولتے ہیں۔غریبوں اور بیماروں کی خبر گیری کرتے ہیں۔ہندوؤں نے بھی عام لوگوں کی خدمت کی کئی سوسائٹیاں بنائی ہوئی ہیں۔ہر جگہ اور ہر سٹیشن پر سیو استی والے