خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 138

خطبات محمود ۱۳۸ سال ۱۹۲۹ء مسافروں کو پانی پلاتے ہیں۔مسلمان بھی بے غیرتی سے ان سے مانگ کر پانی پی لیتے ہیں مگر یہ نہیں محسوس کرتے کہ انہیں بھی ایسی خدمت کے کام اپنے ذمہ لینے چاہئیں۔جو باتیں مسلمانوں نے چھوڑ دی ہیں جب تک وہ دوبارہ ان میں پائی نہ جائیں۔کبھی اور کسی حال میں ترقی نہیں کر سکتے۔محنت کی عادت ڈالیں، دوسروں پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیں خدمت خلق کو اپنا فرض سمجھیں تب وہ ترقی کر سکتے ہیں۔کون کہہ سکتا تھا کہ عیسائی اس قدر ترقی کریں گے مگر جب عیسائیوں نے وہ اصول اختیار کر لئے جن کے ذریعے مسلمانوں نے اس قدر ترقی کی تھی تب وہ دنیا کی بڑی اور طاقتور قوموں میں شمار ہونے لگے۔سپین میں مسلمانوں کی حکومت کا مرکز تھا وہاں دیکھئے مسلمانوں کا نام و نشان نہیں رہا۔مگر اسلام کی اچھی باتیں آج تک ان عیسائی عورتوں میں پائی جاتی ہیں۔مثلاً پر دہ۔سپین کی عیسائی عورتیں پردہ کرتی ہیں مگر مسلمان جنہوں نے یہ سب کچھ چھوڑ دیا تھا ان کا نام ونشان نہیں رہا۔اسلام چونکہ اچھی چیز تھی اس وقت تک اس ملک میں اسلام کی خوبیوں کا نقش ! موجود ہے۔گو مسلمان اپنی غفلت کی وجہ سے مٹادیئے گئے۔یہاں کشمیر میں بھی یہی مرض پایا جاتا ہے اس لئے میں نے اپنے خطبے اس طرز کے بیان کرنے شروع کئے ہیں کہ مسلمانوں میں عمل نہ کرنے کی وجہ سے جو پستی ہے اس میں تبدیلی پیدا ہو۔کیونکہ جب تک مسلمان اپنی مدد آپ نہ کریں گئے محنت نہ کریں گئے دیانتداری سے کام نہ کریں گئے اپنے آپ کو مفید نہ بنائیں گئے مصیبت زدوں کی امداد نہ کریں گے تب تک ترقی نہ ہو گی۔اگر مسلمان یہاں ایک عام لوگوں کی خدمت کرنے والی سوسائٹی بنالیں، مصیبت زدوں کی امداد کریں، ہندو مسلمان کی تمیز چھوڑ دیں تو سب چھوٹے بڑے ہندو سکھ عیسائی ایسا کام کرنے والوں کو عزت کی نظر دیکھنے لگیں گے۔یہاں کشمیر کا ایک واقعہ مجھے یاد ہے جب میں ۱۹۲۱ء میں یہاں آیا تو اسلام آباد میں ایک گہ ماپ دیگر بنوانے کا آرڈر دیا جب وہ تیار کر کے لایا تو اصل ناپ سے جو اسے بتایا گیا تھا کچھ کم تھا۔ہم نے کہا کہ تمہارا تو وعدہ تھا اور قیمت کے ساتھ یہ معاہدہ تھا کہ اتنی رقم تب دی جائے گی جبکہ اس ناپ کا گبہ بنا کر لاؤ گے۔اس کے جواب میں اس نے کہا جی میں مسلمان ہوں۔گویا اس