خطبات محمود (جلد 12) — Page 126
خطبات محمود ۱۲۶ سال ۱۹۲۹ء ایسا شخص رحم اور احسان بھی کرے مگر ایسے طریق سے کرے کہ احسان کے ساتھ دوسرے شخص کی تحقیر بھی ہو جائے مثلاً ایسا شخص جب کسی فقیر کو کبھی دیگا تو پیسہ وغیرہ تحقیر کے ساتھ پھینک کر دے گا تو بسا اوقات ایک شخص احسان کرتے ہوئے ساتھ ہی دوسرے کی تحقیر بھی کر دیتا ہے مگر کوئی خود دار شخص عزت برباد کر نا نہیں چاہتا۔ پس صحیح طریق یہ ہے کہ انسان ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ اور اخلاق حسنہ حاصل کرنے کی کوشش کرے اور جس قدر کسی کی طاقت ہو اس قدر کرے ۔ اس سے وہ اپنی حالت میں ایک پورا درخت ہو جائے گا جو کم و بیش دوسروں کے لئے فائدہ کا موجب ہوگا۔ اس کے اندر حُسنِ سلوک کی عادت ہو احسان کرنے کا مادہ ہو لوگوں کی مدد کرنے اور بھلائی کرنے کی عادت ہو الغرض تمام قسم کی نیکیاں کم و بیش اس کے اندر ہوں اور عیوب کو اپنے اندر سے دور کر دے پھر جو کمیاں رہ جائیں گی ان کی لوگ پرواہ نہیں کرتے ۔ لیکن ہر قسم کی نیکیاں انسان کے اندر ضرور ہونی چاہئیں تب ہی اس کے اندر سر سبز درخت والی خوبصورتی پیدا ہو گی ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایمان کی مضبوطی کے ساتھ اعمال کی خوبصورتی عطا فرما کر ایک سرسبز خوبصورت اور نفع رسال درخت بنائے ۔ آمین الفضل ۹۔ جولائی ۱۹۲۹ء )