خطبات محمود (جلد 12) — Page 125
خطبات محمود ۱۲۵ اُس وقت تک لوگ اُس کی طرف رجوع بھی نہیں کرتے۔جڑھ خواہ کیسی ہی مضبوط کیوں نہ ہو مگر شاخوں کے بغیر ایک درخت درخت نہ کہلائے گا۔برخلاف اس کے ایک چھوٹا سا درخت جس کی ایک جڑھ ہو اور وہ اپنی حیثیت کے مطابق شاخیں بھی رکھتا ہو تو لوگ اُسے درخت کہیں گے اور گذرنے والے اُس کی طرف مسرت کی نظر بھی ڈالیں گے۔اسی طرح وہ شخص جو ایمان کے لحاظ سے پختہ ہو خو بصورتی اُسی وقت اُسے حاصل ہو گی جبکہ اعمالِ صالحہ اور اخلاق حسنہ کی شاخیں اور پتے اسے لگیں گے۔اعمالِ صالحہ اور اخلاق حسنہ صرف رحم کا نام نہیں کہ ایک شخص ہر وقت رحم سے کام لیتا ہے تو اُسے صالح کہا جائے نہ ہی اعمالِ صالحہ صرف ذکر اللہ کا نام ہے۔اس کی مثال ایسے درخت کی ہوتی ہے جو صرف ایک دو شاخیں رکھتا ہو۔ایسے درخت کو لوگ کبھی خوبصورت نہ کہیں گے اور نہ اس کے سایہ کے نیچے آ کر بیٹھنے کی کوشش کریں گے۔اس ملک کا نہایت سایہ دار درخت چنار ہے۔اب اگر اس درخت کی تمام شاخیں کاٹ دی جائیں تو کون اس کی طرف رجوع کرے گا اور کون اس کے سایہ کے نیچے بیٹھنے کی خواہش رکھے گا۔اس کے مقابل پر گلاب کے ایک چھوٹے سے پودہ کو لیں لوگ اس کی خوبصورتی سے فائدہ اُٹھائیں گے۔پیس گوایمان اور یقین نہایت ضروری اور پہلی چیز ہے لیکن جب تک کوئی شخص اعمال کی گوناگوں باتیں حاصل نہیں کرتا تب تک لوگوں کو اپنی طرف کھینچنے اور نفع پہنچانے کا ذریعہ نہیں ہو سکتا۔یہی وجہ ہے باوجود یکہ بعض لوگ اپنے ایمان میں کامل ہوتے ہیں مگر اعمال سے خالی ہونے کی وجہ سے لوگوں کی ٹھوکر کا موجب ہو جاتے ہیں۔ایسا شخص جو کہ اعمال کی کمزوری کی وجہ سے نافع الناس نہ ہو اور کسی کے کام نہ آنے والا ہو جس جگہ بھی رہتا ہو اس کے محلہ کے لوگ بجائے اس کے کہ اُس کی طرف رجوع کریں اُسے نفرت کی نگاہ سے دیکھیں گے۔وجہ یہ کہ اُس کے ایمان کی جڑھ کے ساتھ اعمال کی شاخیں نہ ہونگی۔پس خالی جڑھ کی طرف توجہ کرنا کافی نہیں ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ شاخیں بغیر جڑھ کے نہ پیدا ہو سکتی ہیں نہ قائم رہ سکتی ہیں لیکن اعمال کا ہونا ضروری ہے۔اعمال کے نقص کی وجہ سے انسان بجائے نفع رساں ہونے کے مضرت رساں ہو جاتا ہے۔مثلا کسی کو مچغلی کی عادت ہوتی ہے جس سے وہ لوگوں میں فساد ڈلوا دیتا ہے باوجود یکہ اس کے اند زایمان کی خوبی موجود ہوتی ہے۔یا مثلا بعض کو دوسروں کی تحقیر کرنے کی عادت ہوتی ہے خواہ