خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 127 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 127

خطبات محمود 12 سال ۱۹۲۹ء خدا کے احسانوں میں سے ایک بہت بڑا احسان نبی کی بعثت ہے فرموده ۲۸۔جون ۱۹۲۹ء بمقام سرینگر کشمیر ) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: اللہ تعالیٰ کا کوئی کام بے وجہ اور بے سبب نہیں ہوا کرتا۔چھوٹے سے چھوٹا کام بھی جو وہ کرتا ہے یا چھوٹی سی چھوٹی بات بھی جو وہ کہتا ہے حکمت سے بھری ہوتی ہے۔خالق ومخلوق میں یہی فرق ہے کہ جو کام مخلوق بالا رادہ کرتی ہے ان میں سے کئی کام فضول ہوتے ہیں اور کئی کام عادتوں سے متعلق ہوتے ہیں۔دنیا میں غور کر کے دیکھ لوکوئی آدمی ایسا نہ ہو گا جسے کوئی نہ کوئی عادت نہ ہو۔کسی کو ہاتھ ہلانے کی عادت ہوتی ہے، کسی کو اُنگلیاں چٹخانے کی عادت ہوتی ہے، کسی کو بعض مقامات کے کھجلانے کی عادت ہوتی ہے غرض کوئی ایسا انسان نہیں نکلے گا جسے کوئی نہ کوئی عادت نہ ہو۔وہ اپنی عادت کے ماتحت کام کرتا چلا جائے گا اور ان کاموں کی حکمت بیان نہ کر سکے گا بلکہ دریافت کرنے پر متر ڈ دہو کر خیال کرے گا کہ مجھے یہ عادت ہے بھی یا نہیں۔مگر اللہ تعالیٰ کے ہر فعل میں حکمت ہے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں قانون قدرت کے ماتحت پیدا شدہ چیزوں میں سے کوئی حکمت سے خالی نہیں خواہ چھوٹی سے چھوٹی کیوں نہ ہو انسان کو ؟ چاہئے کسی چیز کو حقیر نہ سمجھے۔کوئی زمانہ تھا کہ درختوں کے صرف پھلوں کو مفید سمجھا جاتا تھا کہ ان سے بھوک دور ہوتی ہے باقی چھال، پتے ، لکڑی وغیرہ کسی کام کی نہیں خیال کی جاتی تھی پھر زمانہ