خطبات محمود (جلد 12) — Page 10
خطبات محمود سال ۱۹۲۹ء صلى الله عليه ۔ گئیں ان کا ایک رشتہ دار بہت تلاش کے بعد اُن تک پہنچا اس وقت ان کی زندگی کے صرف چند منٹ باقی تھے ۔ رشتہ دار نے چاہا کہ ان کی زندگی کو بچانے کے لئے کچھ مدد کرے لیکن انہوں نے کہا کہ اب مدد کا موقع نہیں میرے پاس آؤ جب وہ پاس گیا تو اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا۔ میں تمہارے ہاتھ کو رسول کریم اس کا ہاتھ فرض کرتا ہے کرتا ہوں اور اس سے مصافحہ کرتا ہوں تم رسول کریم کو میر اسلام پہنچا دینا اور میں تم اسے سے عہد عہد لیتا لیتا۔ ہوں کہ میرے تمام رشتہ داروں سے کہہ دینا میں مر رہا ہوں مگر دنیا کی سب سے قیمتی چیز یعنی محمد رسول اللہ کو تم میں چھوڑے جاتا ہوں ۔ تمہیں خواہ کتنی ہی قربانیاں کرنی پڑیں کسی حالت میں بھی آپ کا ساتھ نہ چھوڑنا اور ہر طرح آپ کی حفاظت کرنا ۔ کے ظاہر ہے کہ جب ایسے لوگوں نے اس صحابی کے منہ سے بدلہ لینے کے الفاظ سنے ہونگے تو انہیں کسی قدر جوش آیا ہو گا ۔ اُن کی تلواریں میانوں سے تڑپ تڑپ کر باہر آ رہی ہونگی اور وہ چاہتے ہوں گے کہ اس کی بوٹی بوٹی اُڑا دیں مگر رسول کریم ﷺ نے فرمایا لو تم بھی مجھے گہنی مارلو۔ اُس صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اُس وقت جب آپ کی گہنی مجھے لگی میرا جسم ننگا تھا۔ اس کے ہا۔ اس پر آپ نے اپنا کرتا اٹھا کر اپنا نے اپنا گر تا اٹھا کر اپنا جسم ننگا کر دیا ۔ وہ صحابی جھکا اور نہایت ادب سے اُس مقام پر بوسہ دیا اور کہا یا رسول اللہ ! میں چاہتا تھا کہ اس موقع سے فائدہ اٹھاؤں اور حضور کے مطہر جسم کو بوسہ دے کر برکت حاصل کروں کے لیکن یہ بات تو اس کے دل میں تھی رسول کریم ﷺ کو تو اس کا کوئی علم نہ تھا۔ آپ تو یہی سمجھتے تھے کہ یہ مجھے گہنی ، مارنا چاہتا ہے اور ہوتا تو تو ۔ اس سے ید صلى الله صلى الله آپ نے اسی لئے اپنا جسم بھی ننگا کر دیا۔ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم علی کسی ایسی بات کو قیامت پر اٹھا رکھنا نہیں چاہتے تھے۔ اور میں سمجھتا ہوں اگر ہمارے مخالفوں میں ایسا اخلاص بلکہ اس کا ہزارواں حصہ بھی موجود یہ جھگڑا کبھی پیدا ہی نہ ہوتا اور اب بھی اگر وہ اس فیصلہ پر آمادہ ہو جائیں تو نیک نتیجہ کی امید ہو سکتی ہے۔ میں دوبارہ اعلان کرتا ہوں کہ مجھے یہ طریق فیصلہ منظور ۔ منظور ہے۔ ہماری طرف سے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب وکیل ہونگے جو ہماری طرف سے سب باتیں پیش کریں گے ۔ طریق فیصلہ یہی ہوگا کہ پہلے اس معاہدہ کے معنی کئے جائیں گے اور دیکھا جائے گا کہ مسائل پر بحث کس رنگ میں کرنی جائز تھی ۔ یوں تو پہلے بھی مسائل پر ہی بحث ہوتی تھی ۔ سوال یہ تھا کہ دوسرے کو ذلیل اور لوگوں کو اس کے خلاف بھڑ کانے کی کوشش نہ کی جائے اور یہ دیکھا جائے گا 1