خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 89 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 89

خطبات محمود ۸۹ سال ۱۹۲۹ء خیر خواہی کا یہ مطلب نہیں کہ دنیا بھی تم سے اپنی دشمنی چھوڑ دے۔تم ایک طرف دنیا کی مخالفت کو مد نظر رکھو اور دوسری طرف اپنے کام کی اہمیت کو دیکھو پھر کامیابی کے لئے حقیقی جد و جہد کرو۔مگر میں دیکھتا ہوں بہت ہیں جو اِس مجلس مشاورت میں آتے ہیں، اہم امور کے متعلق مشورہ دیتے ہیں، ان کی زبانیں قینچی کی طرح چلتی ہیں، ان کے الفاظ بارش کے قطروں کی طرح برستے ہیں لیکن ان کی تقریر میں ان کے حلق سے نیچے نہیں اترتیں۔وہ خود بھی اُس وقت لطف اُٹھا رہے ہوتے ہیں اور جو کچھ کہتے ہیں اس پر یقین رکھتے ہیں مگر گھر جا کر سب کچھ بھول جاتے ہیں۔سارا سال ان پر غفلت کی موت طاری رہتی ہے پھر جب مجلس مشاورت کا وقت آتا ہے تو ان کے دل میں ولولہ پیدا ہوتا ہے ان کا خون جوش مارنے لگتا ہے ان کی خواہش ہوتی ہے کہ مجلس کے نمائندے منتخب کئے جائیں وہ نمائندے منتخب ہو کر مجلس میں آ بیٹھتے ہیں۔پھر جو باتیں کرتے ہیں ان سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ساری زندگی اور سارا جوش ان کے جسموں میں بھرا ہوا ہے مگر پھر جب مجلس سے جاتے ہیں تو ایسی موت جو جو اس کو باطل کر دیتی ہے ان پر طاری ہو جاتی ہے۔ایسے لوگ نہ اپنی ذات کے لئے کارآمد اور مفید ہو سکتے ہیں نہ اپنی جماعت کے لئے نہ اپنے دین کے لئے اور نہ اپنے ملک کے لئے۔کارآمد اور مفید انسان وہی ہوتا ہے کہ جو بات کہتا ہے اسے پورا کر کے دکھا ا ہے۔یاد رکھنا چاہئے کہ کام وہی انسان کر سکتا ہے جو اپنے مقصد اور مدعا کو حاصل کرنے کے لئے رات کی تاریکیوں میں بے چین رہتا ہے اور دن کی مجلسوں میں بیتاب ہوتا ہے۔جس شخص پر یہ حالت طاری نہیں ہوتی ، جو اپنے وعدے اپنے اقرار اپنے فیصلہ اور اپنے مشورہ پر اس رنگ میں توجہ نہیں کرتا وہ ایک ایسا بوجھ ہے جو دوسروں کو بھی نیچے دبائے رکھتا ہے نہ کہ ایسا ہاتھ ہے جو قوم کی مددکرتا ہے۔پس ہماری جماعت کے دوستوں کو چاہئے کہ اپنی ذمہ داریوں کو دیکھتے ہوئے اپنے نفوس اور اپنے خاندان کی ذمہ داریوں کو دیکھتے ہوئے اپنی انسانیت اور شرافت کی ذمہ داریوں کو دیکھتے ہوئے ان امور کو پورا کرنے کی کوشش کریں جن کے متعلق مجلس مشاورت میں ان سے مشورہ لیا گیا اور اس مقصد وحید کے لئے زیادہ کوشش کریں جس کے لئے خدا تعالیٰ نے انہیں کھڑا کیا ہے۔جن باتوں کے متعلق مشورہ لیا گیا ہے وہ ایسے ہی امور ہیں جو اس مقصد کے حصول کے لئے بطور اسباب اور ذرائع کے ہیں اور بغیر اسباب اور ذرائع کے کسی کام میں کامیابی نہیں ہو