خطبات محمود (جلد 12)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 88 of 555

خطبات محمود (جلد 12) — Page 88

خطبات محمود ^^ سال ۱۹۲۹ء ہوتے ہیں اور سب ہی ان کی جان کے خواہاں ہوتے ہیں۔جس طرح خدا تعالیٰ اکیلا ہے اور وَحْدَهُ لا شَرِیک ہے اسی طرح اس کی کھڑی کی ہوئی جماعتیں بھی اکیلی ہوتی ہیں کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ انہیں لوگوں کے سہارے ترقی دے۔وہ دنیا کی ہر طاقت کو ان کے مقابلہ میں کھڑا کرتا ہے ہرطرف سے ان کے لئے فتنے پیدا کرتا ہے اور ساری دنیا کو ان کے خلاف کھڑا کر دیتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی طرف اپنے ایک شعر میں اشارہ فرمایا ہے جس سے کئی لوگوں نے بہت ناجائز فائدہ اٹھایا ہے آپ نے فرمایا۔کر بلا ئیست سیر ہر آنم صدحسین است در گریبانم مطلب یہ کہ حضرت امام حسین کے مقابلہ میں تو ایک ہی یزید کھڑا ہوا تھا مگر میرے مقابلہ میں ساری دنیا کھڑی ہے۔حضرت امام حسین یزید کے زہر کے ازالہ کے لئے کھڑے ہوئے اور صداقت کی تائید کرتے ہوئے مارے گئے اس طرح کربلا کا دردناک واقعہ ختم ہو گیا۔آپ فرماتے ہیں میں تو ہر منٹ کر بلا میں سے گذرتا ہوں جو گھڑی مجھ پر آتی ہے اپنے ساتھ نئے رفتنے لے کر آتی ہے اور جو ساعت آتی ہے نئی مخالفت لے کر آتی ہے۔صد حسین است درگر نیانم کیا میری گریبان میں سو حسین بیٹھا ہے کہ ایک کو مار کر جب مخالفین کی تسلی نہیں ہوتی تو ایک نیا حملہ کرنے کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خصوصیت نہ تھی۔ہر ماً مور اور نبی جو دنیا میں بھیجا جاتا ہے۔اس کا یہی حالی ہوتا ہے کہ۔سية کربلا ئیست سیر ہر آنم صدحسین است در گریبانم اور پھر یہی انبیاء کی جماعتوں کا شروع شروع میں حال ہوتا ہے۔پس ہماری جماعت کے دوستوں کو اس امر پر یقین رکھنا چاہئے کہ ہم نہ صرف کمزور ہیں، ہماری جماعت نہ صرف تعداد میں بہت قلیل ہے مال کے لحاظ سے بہت غریب ہے بلکہ ساری دنیا ہماری مخالف ہے۔بہت سے لوگ غلطی سے خیال کر لیتے ہیں کہ جب ہم لوگوں کے خیر خواہ ہیں تو لوگ ہمارے بدخواہ کیونکر ہو سکتے ہیں۔میں ایسے غلطی خوردہ لوگوں سے کہوں گا وہ محمد عے سے زیادہ لوگوں کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے مگر دنیا ان کی بھی دشمن تھی۔بلکہ میں تو کہوں گا کہ خدا سے زیادہ لوگوں کے خیر خواہ نبی بھی نہیں ہوتے مگر لوگ خدا کے بھی خلاف ہوتے ہیں۔غرض تمہاری